بڑے پیر صاحب کے نزدیک بدعتی کی پہچان، نماز کا طریقہ اور کھانے پر فاتحہ کا ثبوت
(۱۲) بڑے پیر صاحب نے بدعتی کی کیا پہچان بتائی ہے ؟ اور آپ کی نماز کیسی تھی ؟ نیت، رفع الیدین، قرآت فاتحہ خلف الامام، زور سے آمین کہنا، جلسہ استراحت میں کیا عمل تھا اور حضور علی کا معمول بہا کیا ہے اور آپ نے اپنی امت کے لئے کیا حکم فرمایا ہے ؟ بینوا توجروا۔
الجواب، اللهم حداية الحق والصواب السائل : احمد علی، مدرس مدرسه معین الاسلام موضع بھکاری پور ضلع پیلی بھیت (یوپی) ۶ تا ۸) کھانے پر فاتحہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ وسلم سے ثابت ہے۔ چنانچہ مشکوۃ شریف میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے۔ حدیث (۱): عن انس قال قال ابو طلحة لام سليم لقد سمعت صوت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضعيفاً أعرف فيه الجوع فهل عندك من شيء نعم فقالت فأخرجت أقراصا من شعير، ثم أخرجت خمارًا لها، فلفت الخبز ببغضه، ثم دسته تحت يدي لا ثتنى ببعضه، ثم أرسلتني إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذهبت به فوجدت رسول الله صلى الله عليه وسلم فى المسجد، ومعه الناس، فسلمت عليهم، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : أرسلك أبو طلحة؟ قلت: نعم، قال : بطعام؟ قلت : نعم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمن معه: قوموا فانطلق وانطلقت بين أيديهم حتى جئت أبا طلحة فأخبرته، فقال أبو طلحة: يا أم سليم، قد جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناس وليس عندنا ما نطعمهم؟ فقالت: الله ورسوله أعلم. فانطلق أبو طلحة حتى لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم فأقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو طلحة معه فقال رسول الله صلى تكملة الله عليه وسلم : هلمي يا أم سليم ما عندك فأتت بذلك الخبز، فأمر به رسول الله صلى الله عليه وسلم ففت، وعصرت أم سليم عكة فآدمته ، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فيه ما شاء الله أن يقول ، ثم قال : ائذن لعشرة فأذن لهم فأكلوا حتى شبعوا ثم خرجوا، ثم قال : ائذن لعشرة ثم لعشرة فأكل القوم كلهم وشبعوا والقوم سبعون او ثمانون رجلا . متفق عليه. یعنی حضرت ابوطلحہ رحمہ اللہ نے ام سلیم رحمھا اللہ سے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمزور آواز سنی جس میں بھوک کا اثر معلوم ہوا تو کہا تمھارے پاس کچھ ہے توام سلیم رضی اللہ عنہا نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں پھر اپنا ایک دوپٹہ نکالا تو روٹی اس کے ایک حصہ میں لپیٹ دی پھر اسے میرے ہاتھ کے نیچے دبا دیا اور دوسرا حصہ میرے گرد لپیٹ دیا۔ پھر مجھے رسول اللہ اللہ کے حضور بھیجا تو میں وہ روٹیاں لے کر گیا تو رسول اللہ ﷺ کو میں نے مسجد میں پایا اور آنحضرت علیہ الصلاۃ والسلام کے ساتھ کچھ لوگ تھے تو میں نے انہیں سلام کیا تو مجھ سے رسول اللہ لی لی لی لی لی نے فرمایا کیا تجھے ابو طلحہ نے بھیجا ہے میں نے عرض کی جی ہاں فرمایا کھانے کے ساتھ میں نے عرض کی جی ہاں تو رسول اللہ علی نے اپنے صحابہ سے فرمایا اٹھو تو حضور رہی ہے اور وہ سب چل دیے اور میں ان سب کے آگے جاکر ابوطلحہ کے پاس پہنچا تو میں نے ابو طلحہ کو خبر دی تو ابو طلحہ نے کہا اے ام سلیم حضور اقدس میلے لوگوں کے ساتھ تشریف لاتے ہیں تو ام سلیم نے کہا اللہ ورسولہ باخبر ہیں تو ابو طلحہ نے آگے بڑھ کر رسول اللہ ہیلی لیلی لیلی سے ملاقات کی پھر رسول اللہ لی لی لیے تشریف فرما ہوئے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ حضور کے ساتھ تھے رسول اللہ لیلی لیلی یا علی نے فرمایا اے ام سلیم ! لاؤ جو کچھ تمھارے پاس ہے تو انہوں نے وہی روٹی حاضر کی ( تو حضور ) رسول اللہ ی لی لی نے اسے توڑنے کا حکم دیا تو وہ توڑی گئی اور ام سلیم نے اس میں گھی کے برتن کو نچوڑ دیا پھر وہ گھی اس میں ملا دیا۔ پھر رسول اللہ مال لیلی نے اس پر پڑھا جو اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ دس کو آنے کی اجازت دو تو انہیں اندر آنے کی اجازت دی گئی تو ان دس نے کھایا اور سیر ہوگئے پھر وہ نکل گئے پھر حضور ﷺ نے فرمایا اس کو بلاؤ پھر دس کو تو سب لوگوں نے کھایا اور وہ سب سیر ہو گئے اور وہ شا شام لوگ ستر یا اسی مرد تھے، متفق علیہ (یعنی یہ حدیث بخاری ومسلم نے روایت کی ) اور مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ حضور بالای لی لی لی لی نے فرمایا اس کو بلاؤ تو وہ اندر آئے تو حضور نے فرمایا بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ تو ان دس نے کھایا یہاں تک کہ حضور علی نے یہی معاملہ ۸۰ مردوں کے ساتھ کیا پھر بی لی لی نے اور گھر والوں نے کھایا اور کچھ چھوڑ دیا اور بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے پاس دس کو لاؤ یہاں تک کہ چالیس آدمی شمار ہوئے پھر حضور علی نے کھایا تو میں دیکھنے لگا کہ کیا کچھ کم ہو گیا۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے پھر حضور این ایلیا ایلی نے بقیہ طعام کو لے کر یکجا کیا اور اس میں برکت کی دعا کی تو وہ کھانا اتنا ہی ہو گیا جتنا تھا۔ تو حضور نے فرمایا اسے رکھ چھوڑو۔ (1)
حدیث (۲): حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، آپ نے فرمایا جس دن جنگ تبوک ہوئی لوگ بھوک میں مبتلا ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم لوگوں کو ان کے بقیہ توشہ کے ساتھ بلوا لیجئے پھر اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے اس سامان پر برکت کی دعا کیجئے۔ حضور عالی نے منظور فرمایا تو حضور پہلی سی سی نے دستر خوان طلب کیا، دستر خوان بچھایا گیا پھر ان کے باقی تو شے طلب فرمائے تو کوئی مٹھی بھر مکئی لایا اور کوئی مٹھی بھر چھوارے اور کوئی روٹی کا ٹکڑالا یا تو دستر خوان پر تھوڑا سامان اکٹھا ہوا پھر رسول اللہ لی لی لی نے برکت کی دعا کی پھر حضور پیلی ﷺ نے فرمایا اپنے برتنوں میں بھر و تولوگوں نے اپنے برتن بھر لیے یہاں تک کہ لشکر میں کوئی برتن نہ چھوڑا جو بھر نہ دیا ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”فا کلو احتی شبعو او فضلت فضله فقال رسول الله الا الا السلام اشهد ان لا الہ الا اللہ وانی رسول اللہ لا یلتقی اللہ بھا عبد غیر شاک فیحجب عن الجنة، رواه مسلم “ یعنی ان لوگوں نے سیر ہو کر کھایا اور کچھ بچ رہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، ان دونوں شہادتوں پر یقین کے ساتھ جو بندہ اللہ سے ملے گا جنت
(1) مشكوة المصابيح، باب فى المعجزات، ج ۲، ص ٥٣٦ ، مجلس بركات سے محجوب نہ ہو گا۔ (۱) حدیث (۳): عن انس قال كان النبي ﷺ عروسا بزينب فعمدت امى ام سلیم الى تمر وسمن واقط فصنعت حيسا فجعلته فى تور فقالت يا انس اذهب بهذا الى رسول الله ﷺ فقل بعثت بهذا اليك امى وهى تقرئك السلام وتقول ان هذا لك منا قليل يا رسول الله فذهبت فقلت فقال ضعه ثم قال اذهب فادع لى فلانا و فلانا و فلانا رجالا سماهم وادع لى من لقيت فدعوت من سمى ومن لقيت فرجعت فاذا البيت غاص باهله قيل لانس عددكم كم كانوا قال زهاء ثلاث مأة فرأيت النبي ﷺ وضع يده على تلك الحيسة وتكلم بما شاء الله ثم جعل يدعو عشرة عشرة يأكلون منه و يقول لهم اذكروا اسم الله ولياكل كل رجل مما يليه قال فاكلوا حتى شبعوا فخرجت طائفة ودخلت طائفة حتى اكلوا كلهم قال لى يا انس ارفع فرفعته فما ادری حين وضعت كان اكثر ام حين رفعت، متفق عليه. خلاصہ حدیث یہ ہے کہ حضور علی نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے عقد فرمایا اور ایام شادی تھے توام سلیم رضی اللہ عنہا کو خیال آیا کہ کھجور اور گھی اور پنیر کا ملیدہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ و صحبہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں تو انہوں نے ملیدہ تیار فرماکر حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ بھیجا اور حضور اقدس کو سلام کہلوایا اور کہلوایا کہ ہماری طرف سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں یہ قلیل تحفہ ہے، حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا، اسے رکھ دو اور فلاں فلاں لوگوں کو (جن کے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے نام بتائے ) بلاؤ اور جو تمہیں ملیں انہیں بھی بلاؤ۔ حضرت انس نے حکم اقدس کی تعمیل کی اور پلٹے تو کیا دیکھتے ہیں کہ گھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ حضرت انس سے پوچھا گیا کہ لوگوں کی کیا تعداد تھی ؟ فرمایا تین سو سے زائد تھے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے بی بی سی سی کو دیکھا کہ اس ملیدہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے پڑھا جو اللہ نے چاہا پھر حضور علیہ الصلاۃ والسلام دس دس کو بلاتے اور وہ اس میں سے کھاتے اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے اللہ کا نام لو اور ہر شخص اپنے پاس سے کھائے تولوگوں نے بھر پیٹ کھایا اور ایک جماعت نکلتی یہاں تک کہ دوسری آتی کہ سب نے کھالیا اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا اے انس کھانا اُٹھا لو تو میں نے اُٹھا لیا اور میں نہیں جانتا کہ جب میں نے کھانا رکھا تو اس وقت زیادہ تھا یا جب اٹھایا تو زیادہ تھا۔ یہ تین حدیثیں مذکور ہوئیں۔ تینوں میں کھانا سامنے رکھ کر پڑھنے کا ذکر ہے تو یہ تینوں فاتحہ کے طریقہ رائجہ کی سند ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ کسی کام کا ممنوع و حرام ہونا اس پر سرے سے موقوف ہی نہیں کہ حضور اقدس پالیسی یا صحابہ و تابعین کے زمانے میں وہ فعل کسی نے کیا ہو ورنہ لازم آئے گا کہ قرون ثلثہ کے بعد تمام محدثات حرام و ناجائز ہوں مثلاً مسجدوں کو اونچا بنانا، گنبد بنانا، سرائے اور مدارس بنانا اور مصحف میں اعراب و نقط اور منزلیں بنانا اور صرف و نحو و بلاغت و معانی و کلام و اصول فقه و حدیث وغیرھا علوم میں تصنیف کرنا اور صحابہ و تابعین کے زمانے میں محدث عقائد باطلہ مثل اعتزال و قدر و جبر و ناصبی و خارجی جائز ٹھہریں بلکہ حرام وہ ہے جسے اللہ و رسول حرام فرمائیں اور جسے اللہ ورسول حرام نہ فرمائیں اسے بزور زبان بدعت سیئہ و ناجائز کہنا ہی حرام ہے۔ قال تعالى : "وَلَا تَقُوْلُوْا لِما تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَلْ وَهَذَا حَرَام " (1) اپنی زبانوں سے جھوٹ مت کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے۔ اور جسے اللہ ورسول جل و علا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وبارک وسلم منع نہ فرمائیں وہ مباح ہے ، ہرگز حرام نہیں۔ (1) النحل: ١١٦ تكملة قال تعالى: "ورهبانية ابتدعوها ما كتبتها عليهم الا ابتغاء رضوان الله فما رعوها حق رعايتها - الآية " (1) یعنی نصرانیوں نے رہبانیت خود ایجاد کی، ہم نے ان پر فرض نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے اللہ کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اس کی جیسی رعایت چاہئے تھی نہ کی۔ دیکھور ہبانیت پر ملامت نہ کی بلکہ اسے نہ نباہنے پر ملامت کی جس سے اس رہبانیت کی تحسین صاف ظاہر ۔ یہاں سے ظاہر کہ ہر بدعت گمراہی و ضلالت نہیں بلکہ بدعت کبھی اچھی بھی ہوتی ہے جیسا کہ "نعمت البدعة هذه (۲) کا صریح مفاد ہے اور وہ بدعت وہ ہوتی ہے جو کسی مستحسن شرعی کے تحت مندرج ہو اور کبھی بڑی بھی ہوتی ہے اور وہ جو بالکلیہ خلاف شرع ہو اور بدعت کی وہ تحدید کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانے میں یا صحابہ و تابعین کے زمانے میں نہ ہو، خود بدعت ہے جس پر شرع سے اصلا دلیل نہیں۔ ومن ادعی فعلیہ البیان۔ اور جب ہماری تلاوت کردہ آیات سے یہ بخوبی روشن کہ جو شرعاً منع نہ ہو وہ اپنے اصل اباحت پر رہے گا۔ اسی لئے قاعدہ کلیہ قرار پایا کہ ”الاصل في الاشياء اباحة»(۳) دیکھومرقاة وغيره تو معمولات اہلسنت کے لئے قرون ثلثہ سے سند طلب کرنا غلط و مہمل ہے بلکہ مانعین کے ذمہ لازم ہے کہ وہ شرع سے منع دکھائیں اور اپنی اصل مزعوم سے اس کا ثبوت بہم پہنچائیں کہ یہ امور اُن زمانوں میں نہ تھے اور یہ ملحوظ رہے کہ منقول نہ ہونا سرے سے نہ ہونے کی دلیل نہیں۔ یہاں سے ۸/۶/۵/۴/۳/۲/۱/ سوالات کا جواب حاصل اور اذان قبر کے جواز کے لئے ایک یہی سند کافی کہ یہ تلقین میت کی ایک شکل ہے اور حدیث میں تلقین کا حکم وارد ہوا ہے۔ ”لقنوا موتاكم لا اله الا اللہ ) سے کون باخبر نہیں اور جب بموجب اس حدیث کے اسے تلقین کی جاتی ہے جو ابھی مرا نہیں بلکہ نزع میں ہے تو جو حقیقت مردہ ہو گیا اس کے لئے بدرجہ اولی تلقین کا حکم ہوا اور تلقین کا کوئی صیغہ شرعا معین نہیں کہ اس کے سوا دوسرا صیغہ ممنوع ہو ، و من ادعی فعلیہ البیان۔ تو تلقین کے لئے اس اذان کا جواز خود روشن ۔ تفصیل کے لئے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا رسالہ ” ایذان الاجر فی اذان القبر“ دیکھئے اور نتیجہ وغیرہ بھی جائز کہ ان میں کلمہ خوانی اور قرآن خوانی اور طعام خورانی ہوتی ہے اور ان میں کوئی فعل ناجائز نہیں تو مجموعہ ان افعال کا کیونکر ناجائز ہو گا۔ اور یہ سوال معنی مکرر ہے کہ فاتحہ کے بابت سوال میں یہ بھی آگیا اور تیجہ وغیرہ کے جواز پر شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی کا ارشاد وہابیہ کے لئے سند بلکہ ان کے منہ میں لگام ہے کہ تیجہ و چہلم و برسی کے جواز کی وہ تصریح فرماتے ہیں اور وہابیہ اسے بدعت بتاتے ہیں تو آپ ہی امام الوہابیہ کے چا اور دادا پیر کو بدعتی بتا کر امام الوہابیہ کو اور پورے طائفہ کو بدعتی ٹھہراتے ہیں کہ امام الوہابیہ ان شاہ صاحب کو اپنا امام و پیشوا مانتا ہے۔ بالجملہ شاہ صاحب تفسیر عزیزی میں فرماتے ہیں: وار دست که مرده دریں حالت مانند غریقی است که از انتظار فریا در سی می برد و صدقات وادعیه و فاتحہ دریں وقت بسیار بکار او می آید ۔ وازیں ست که طوائف بنی آدم تا یک سال و علی الخصوص تا یک چله از موت دریں نوع امداد کوشش تمام می نمایند اور قبر پر پھول ڈالنا بھی جائز ومستحسن ہے اور اس کی سندوہ حدیث ہے جس میں حضور علیہ السلام کاتر شاخ دو قبروں پر لگانا مذکور ہے ۔ شرح الصدور میں ہے: "قال القرطبي استدل بعض علمائنا على نفع الميت بالقرأة عند القبر بحديث العسيب الذي شقه النبي ﷺ باثنين وغرسه وقال لعله يخفف عنهما لم يبسا قال وهذا الحديث اصل فى غرس الاشجار عند القبور، اه ملتقطا" اور نفس قبر پر چراغ یا اگر بتی جلانا مطلقا ممنوع اور قبر سے علیحدہ زائر قاری یا راہ گیر کو روشنی دینے کے لئے اور لوگوں کو خوشبو سے مسرور کرنے کے لئے اسے کوئی بدخواہ ہی ناجائز کہے گا اور اگر بے حاجت محض بے کار جلائے تو بے شک ناجائز ہے اور تفصیل کے لئے اعلیٰ حضرت قدس سرہ کا رسالہ ”بریق المنار بشموع المزار دیکھئے اور صحابہ و تابعین کی سند مانگنا بے جا ہے۔ مانعیین کے ذمہ دلیل منع ہے اور یہ بھی انہیں کے ذمہ ہے کہ صحابہ و تابعین کے زمانے میں یہ باتیں نہ تھیں اور قرآن پڑھنا کبھی کہیں منع نہیں بلکہ قبر پر ختم قرآن کا استحباب مصرح ہے ۔ شرح الصدور میں ہے: (1) "وان ختموا القرآن على القبر كان افضل الخ'' اور تیسرے دن کی تعیین کوئی لازم شرعی نہیں نہ کوئی ذی ہوش اسے لازم شرعی جانتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ مسلمان جب قبرستان میں آتے ہیں، فاتحہ پڑھتے ہیں۔ اور بغیر اعتقاد لزوم تعیین کوئی دن معین کرلینے میں حرج نہیں اور جو مدعی منع ہو دلیل دے اور قیامت تک ان شاء اللہ نہ دے سکے گا۔ اور اصل بات تو یہ ہے کہ تیسرے دن کی تعیین کے ہم کچھ قائل نہیں اور مانعین اسے ناجائز کہتے ہیں توفی الجملہ تعیین کے وہی قائل ہوئے اور تیسرے دن کی ممانعت سے لازم یہ آیا کہ تیسرے دن نہ پڑھیں باقی جس دن پڑھیں جائز ہے تو مانعین کو وجہ فرق بتانا ضرور کہ تیسرے دن کیوں منع اور باقی دن کیوں جائز ؟ اور جس دن بھی پڑھا جائے تو تعیین لازم تو مفر کدھر سوائے اس کے کہ مطلقا قرآن خوانی ہی کو منع ٹھہرائیں۔ بہر حال دلیل وہ دیں اور ثبوت وہ بہم پہنچائیں کہ صحابہ و تابعین کے زمانے میں تیسرے دن قرآن خوانی نہ ہوتی تھی اور زیارت قبور کی دعا السلام علیکم یادار قوم مومنین انتم لنا سلف وانا ان شاء اللہ بکم لاحقون“ ہے اور میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم منعقد کرنابلا شبہ جائز ومستحسن ہے کہ شرع سے منع وارد نہیں اور اس پر قرون طویلہ سے تعامل مسلمین ہر بلاد و امصار و اعصار چلا آتا ہے اور تعامل مسلمین وہ عظیم حجت ہے جسے قرآن سبیل مومنین فرماتا ہے اور اس کے خلاف پر جہنم کی وعید سناتا اور مخالف کو دشمن خد اور سول بتاتا ہے۔ قال تعالیٰ: وَ مَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ (1) شرح الصدور، باب في قرأة القرآن للميت او على القبر، ص ۳۱۱، المؤسسة السعودية، مصر نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَ نُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا (۱) اور میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے ذکر سے کتب حدیث و سیر مملو د مشحون ہیں جس سے ظاہر کہ صحابہ و تابعین نے حالات و ولادت کی روایت میں اعتناء تمام بر تابلکہ خود حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا اعتناء تمام اسی سے ظاہر کہ حضور علیہ السلام سے ان صحابہ نے ذکر ولادت سنا اور حضور علیہ السلام کے رو بر و واقعات ولادت ضرور بیان ہوئے اور حضور نے سماعت فرمائے جیسا کہ کتب حدیث وسیر سے ظاہر ہے بلکہ خود قرآن میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے ولادت کی خوشخبری متعدد آیات میں موجود ہے۔ از انجملہ یہ آیت ہے جس میں فرمایا: " لَقَدْ جَاء كُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ - الآية (۲) اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے ولادت پر خوشی منانے کا حکم خود قرآن میں موجود۔ فرماتا ہے: " قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَ بِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا (۳) تم فرماؤ اللہ کے فضل ورحمت سے تو اس کی خوشی منائیں۔ اور فضل خدا اور رحمت خدا حضور علیہ الصلاۃ والسلام ہیں تو آیت نے ولادت کی خوشی منانے کا حکم دیا۔ یہاں سے ثابت کہ عید میلادالنبی کی خوشی سنت الہیہ وسنت رسول و صحابہ و تابعین ہے اور جو مانع ہو دلیل دے۔ تفصیل کے لئے ”اقامۃ القیامۃ مصنفہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ یا ” انوار ساطعہ “ دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور یہی تعامل سہرے کے جواز کی سند ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) یہ کسی کا عقیدہ نہیں اور تشریف لائیں تو انہیں کچھ دشوار نہیں کہ انہیں روئے زمین میں آنے جانے کی قدرت ملی ہے۔ زرقانی علی المواہب ج ۱، ص ۱۱، ۱۰ر میں ہے: انہ وسائر الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ردت الیہم ارواحهم بعد ما قبضوا واذن لهم في الخروج من قبورهم للصرف فى الملكوت العلوي والسفلی اھ وقد روى الحاکم فی تاریخہ والبيهقي في حياة الانباء عن انس ان النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال ان الانبياء لا يتركون في قبورهم اربعین لیلتہ ولن يصلون بین یدی اللہ تعالی حتی نفخ فی الصور قال المبیقی - الخ»(۱) (1) ہمارے مذہب حنفی میں صرف تکبیر افتتاح کے وقت رفع یدین مسنون ہے وبس۔ اور ہماری دلیل وہ احادیث ہیں جو ہمارے ائمہ نے ائمہ حدیث سے روایت کیں۔ ہم تبیین شرح کنز سے حدیث امام شافعی کا جواب اور اپنی موید مذہب احادیث نقل کرتے ہیں۔ تبیین میں ہے: وقال الشافعي يرفع في الركوع والرفع منه لحديث ابن عمر انه قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وصحبه وسلم اذا افتتح التكبير في الصلاة حين يكبر رفع يديه حتى يجعلهما حذ ومنكبيه واذا كبر للركوع فعل مثله واذا قال سمع الله لمن حمده فعل مثله وقال ربنا لك الحمد ولا يفعل ذلك حين يسجد ولا حين يرفع رأسه من السجود ولنا ما روى ابو داؤد باسناده عن البراء انه قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه حين افتتح الصلاة ثم لم يرفعهما حتى انصرف وعن جابر بن سمرة قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال مالی اراکم رافعی ايديكم كأنها اذناب خيل شمس اسكنوا في الصلاة رواه مسلم وقال عبد الله بن مسعود الا اصلى بكم صلاة النبي صلى الله عليه وسلم فصلى ولم يرفع يديه الا فى اول مرة قال الترمذى حديث حسن وقال ابن مسعود ايضا صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم و ابی بکر و عمر فلم يرفعوا ايديهم الا عند افتتاح الصلاة وروى عن مجاهد انه قال خدمت ابن عمر عشر سنين فما رأيته يرفع يديه في شيء من صلاته الا فى التكبيرة الاولى والراوى اذا فعل بخلاف ما روى تترك روايته على ما عرف فى موضعه وعن عبد الله بن عمرو ابن عباس رضی الله عنهما انهما قالا قال النبي صلى الله عليه وسلم ترفع الايدى فى سبع مواطن عند افتتاح الصلاة واستقبال القبلة والصفا والمروة والموقفين والجمرتين . الخ یہاں وہ حدیث بھی منقول ہو گئی جس میں تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ اُٹھائے رہنے سے ممانعت آئی۔ واللہ تعالی اعلم (۱۰) سب صحابہ جو حاضران مجلس تھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے لئے قیام فرماتے تھے ۔ حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے: قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجلس معنا في المسجد ويحدثنا فاذا قام قمنا قياما حتى نراه قد دخل بعض بيوت ازواجه . اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے قیام سے منع نہ فرمایا بلکہ اعاجم کی طرح وقوف یعنی بیٹھے ہوئے آدمی کے لئے کھڑے رہنے سے منع فرمایا۔ چنانچہ مجمع البحار ج ۳، ص ۱۸۲، مطبوعہ نولکشور میں ہے: ليس هو من القيام المنهى منه انما هو فيمن يقومون عليه وهو جالس ويمثلون قياما طول جلوسه (1) تبيين الحقائق، كتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، ج ۱، ص ۳۱۰ ، ۳۱۱، دار الكتب العلمية، بيروت (2) اشعة اللمعات شرح مشكوة، كتاب الآداب، باب الجلوس، ج ٤ ، ص ،۳۰، مطبوعه مكتبه نور یه رضو به سکهر (3) مجمع البحار ج ۳، ص ۱۸۲، مطبوعه نولکشور تواصل قیام سے ممانعت نہیں بلکہ اعاجم کی طرح قیام سے ممانعت ہے اور اصل قیام تو شرعاً مامور ومستحب عند الجمہور ہے۔ اسی مجمع البحار میں اسی صفحہ پر ہے: "وح قوموا الى سيدكم فيه استحباب القيام عند دخول الافضل وهو غیر القيام المنهى لان ذلك بمعنى الوقوف وهذا بمعنى النهوض " نیز اشعۃ اللمعات میں ہے: "وانتج به الجماهیر الکرام وهم طیبی، از محی السنته، نقل کرده که اجماع کرده اند جماہیر علماء بایں حدیث برا کرام اہل فضل از علم یا صلاح یا شرف بقیام" اور کتب حدیث میں مسطور ہے ، اسی اشعۃ اللمعات میں اسی صفحہ پر ہے: پوشیده نماند که قیام آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ و صحبہ وسلم ) مر فاطمہ راو قیام وے رضی اللہ عنہا مر آنحضرت را سابقا معلوم شد اللہ تعالیٰ اعلم (1) ادب و تعظیم سے پڑھے اور یہ سمجھے کہ گویا حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو دیکھتا ہے کہ اگر چہ یہ نہیں دیکھتا مگر حضور یقینا اسے دیکھتے اور اُس کا درود سنتے ہیں۔ مدارج النبوۃ میں شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: ذکر کن اور او در و د بفرست بروے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم و باش در حال ذکر گویا حاضر است پیش در حالت حیات وے بینی تو اور امتأدب با جلال و تعظیم و ہمت و حیا بدانکہ وے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم می بیند و می شنود کلام تر از برا کہ وے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم منتصف است بصفات اللہ تعالی و یکے از صفات الہی آنست که انا جلیس من ذکر نی اور خارج نماز درود شریف کا کوئی صیغہ متعین نہیں، ہر صیغہ جائزہ کے ورد کا اختیار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۲) ہم حنفی ہیں، ہم سے ہمارا مذہب پوچھنا چاہئے اور ہم پر اپنے ائمہ مذہب کا قول بتانا ہی واجب ہے۔ نیت نماز ہمارے یہاں بھی فرض ہے اور قرآت خلف الامام اور آمین بالجہر اور جلسہ استراحت ہمارے مذہب میں معمول بہا نہیں اور محمدہ تعالیٰ ہمارا مذ ہب احادیث کریمہ سے مؤید ہے جس کی تفصیل ہماری کتب میں مسطور ہے۔ باب قرآت خلف الامام میں ہمارا مستندل اللہ تبارک و تعالیٰ کا قول ” و اذا قرئ القرآن فاستمعوا له وانصتوا - الآية “ ہے۔ اس آیت کے سبب نزول میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے: " قال كانوا يقرءون خلف الامام فنزلت (0) بلکہ امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "اجمع الناس على ان هذه الآية في الصلاة "(۲) اور ابوہریرہ وابو موسیٰ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: "واذا قرأ فانصتوا قال مسلم هذا الحديث صحيح (۳) اور آمین کو آہستہ کہنا ہمارے یہاں مسنون ہے کہ حدیث وائل رضی اللہ عنہ میں ہے کہ : "انه عليه الصلاة والسلام قال آمين خفض بها صوته رواه احمد وابوداؤد والدارقطني (r)" اور جلسہ استراحت بھی ہم حنفیوں کے یہاں نہیں ۔ تبیین شرح کنز ، ص ۱۹ار میں ہے: "لنا ما رواه ابوهريرة انه عليه الصلاة والسلام كان ينهض على صدور قدميه رواه الترمذى والبيهقى وعن ابن عمر نهى عليه الصلاة والسلام ان يعتمد الرجل على يديه اذا نهض فى الصلاة رواه ابو داؤد - الخ اور غنیۃ الطالبین میں بہت باتیں الحاقی ہیں کما صرح بہ فی الفتاوی الحدیثیۃ (ص۱۷۳) جس کے سبب اس پر علماء کا اعتماد نہیں۔ بایں ہمہ کتاب مستند و ثابت بھی ہو تو اس کے ہر ہر فقرہ کا ثابت ہونا کیا ضرور ۔ اب غیر مقلدوں پر لازم ہے کہ اس کتاب کی نسبت بہ جناب غوثیت مآب ثابت کریں پھر اس کی کسی اصل صحیح و معتمد سے اس فقرہ کا ثبوت بہم پہنچائیں اور اس کے بعد یہ ثابت کریں کہ غیر مقلد اصحاب حدیث ہیں اور حنفیہ و شافعیہ و غیر ہم مقلدین، ائمہ مذاہب اربعہ اس ارشاد کے بموجب معاذ اللہ اہل بدع ہیں اور یہ ملحوظ رہے کہ سیدنا غوث اعظم نے اپنے عقیدہ کے آخر میں یہ فرمایا ہے: " فيا لها من قواف بهية وعقيدة سنية على اصول مذاهب الحنفية والمالكية والشافعية والحنبلية عصمنى الله واياكم من الذين فرقوا فمرقوا كما يمرق السهم من الرمية وجعلنى واياكم من الذين لهم غرف من فوقها غرف مبنية صلى الله على سيدنا محمد اشرف البرية وعلى آله واصحابه وخصهم باشرف التحية وسلم تسليما كثيرا دائما متجددا مترادفا في كل بكرة وعشية . " والله تعالى اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۱۳ صفر المظفر ۱۴۰۲ھ لقد اصاب من اجاب۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی تحسین رضا خاں الجواب صحیح۔ مناظر حسین منظر اسلام، بریلی بہاء المصطفیٰ قادری الجواب صحیح ۔ فقیر قادری رضوی محمد مصلح الدین صدیقی ۲۱ صفر ۱۴۰۲ھ