ناحق کسی کی زمین دبانے کا وبال!
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں گورنمنٹ سے جو زمین ملی تھی، ۱۹۷۹ء میں ایک صاحب نے جو اُن کا لڑکا بغیر شادی شدہ ہے اس کی بیوی اور بچے بتاکر زمین لے لی اور وہ لڑکے کے والد گاؤں کے پیش امام بھی ہیں اور گاؤں کے قاضی بھی ہیں۔ المستفتی: خلیق احمد ، موضع پہیلیا، پوسٹ خاص، وایہ امر یا ضلع پیلی بھیت
الجواب: بے وجہ شرعی کسی کی ملک پر قبضہ حرام و گناہ عظیم ہے۔ حدیث میں ہے: " من اقتطع شبرا من الارض ظلما طوقه الله اياه يوم القيامة من سبع ارضين او كما قال صلى الله عليه وآله وصحبه وسلم . (1) یعنی جو ناحق کسی کی زمین دبا لے، اللہ تعالیٰ اس کے گلے میں سات زمینوں کا طوق ڈالے گا اور اس کا مرتکب ( بر تقدیر صدق سوال) اشد گناہ گار ظالم جفا کار ہے اور اگر واقعی اس کا یہ جرم ثابت و مشتہر ہے تو وہ فاسق معلن ہے ، اسے امام کرنا گناہ۔ (1) الصحيح لمسلم، كتاب المساقاة، باب تحريم الظلم و غصب الارض، ج ۲، ۳۲، مجلس بركات غنیہ میں ہے: "لو قدموا فاسقا يأثمون "() اور نماز اس کے پیچھے مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ در مختار میں ہے: "كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها". (۲) واللہ تعالیٰ اعلم تكملة فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۲۰ محرم الحرام ۱۴۰۲ھ (1) غنية المستملى شرح منية المصلى ، فصل في الامامة، ص ٥١٣، سهیل اکیڈمی (2) الدر المختار، کتاب الصلاة باب صفة الصلاة ج ۲، ص ١٤٧،١٤٨، دار الكتب العلمية ،بيروى