اوجھڑی کھانے کی شرعی حیثیت اور اوقاف کے معاملات میں انگریزی تاریخ کا استعمال
تاریخ سے ہونا چاہئے کیونکہ اوقاف کا تعلق دین سے ہے اور دینی امور میں اسلامی تاریخ ہی معتبر ہے جیسے حیض و نفاس وغیرہ۔ مہربانی فرما کر جواب جلد عطا فرمائیں۔ بینوا توجروا۔ فقط، والسلام
الجواب: علی محمد رضوی، پوسٹ باسنی ضلع ناگور شریف راجستھان (1) اوجھڑی کھانا مکروہ تحریمی و گناہ ہے کہ طبع سلیم اس سے نفرت کرتی ہے اور اسے خبیث و نجس جانتی ہے اور اس میں پلیدی مثانہ و غدو دو پستہ و فرج (جن کی کراہت حدیث میں منصوص ہے) سے اشد ہے کہ اخبث نجاست کا مقر ہے تو کس درجہ خبیث ہو گا اور کیوں حرام نہ ہوگا۔ فقہائے کرام تو غلیظ کھانے والے جانور کے گوشت کو مکروہ تحریمی بتاتے ہیں تو اوجھڑی کہ مقر نجاست غلیظہ ہے ، بدرجہ اولی مکروہ تحریمی ہے۔ قال تعالیٰ: " وَ يُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الحَبيت - الآية ) در مختار میں ہے: الخبيث ما تستخبثه الطباع السليمة. (٢) وهو تعالى اعلم (۲) قمری تاریخ کا اعتبار شرعا مطلوب ہے ، مگر تاوان لازم نہ ہو گا کہ تاوان اس وقت لازم ہوتا ہے جبکہ اس دن میں سکونت بے کرایہ ہوتی۔ حالانکہ ایسا نہیں کہ جب فریقین نے انگریزی تاریخ سے کرایہ طے کیا تو کرایہ دار نے بالبداہتہ سال کے ۳۶۵ دن کرایہ معینہ دینا منظور کیا اور متولی نے اتنی مدت اس کو وہ جگہ کرایہ پر دی۔ یونہی مدرسین کا حق مارنا بھی صادق نہیں اسی دلیل سے جو گزری۔ وھو تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ (1) اعراف: ١٥٧ ۲۷ شوال المکرم ۱۴۰۳ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم / قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (2) الدر المختار، كتاب الذبائح ، ج ۹، ص ٤٤٣ ، دار الكتب العلمية، بيروت