قبر پر اذان کا طریقہ، رمضان میں وفات کی فضیلت اور سالی سے زنا کا نکاح پر اثر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: (1) قبر پر اذان دینا شریعت کی رو سے جائز ہے لیکن کس جگہ کھڑا ہو کر اذان دینا چاہیئے ؟ قبر کے نزدیک اتر جانب یا دکھن جانب یا بچھم جانب یا پورب جانب؟ ایک مولوی صاحب کا کہنا ہے کہ قبرستان کے پورب جانب اذان دینا چاہئے تاکہ قبرستان میں جتنے بھی مردے ہیں وہ سامنے ہوں، قبر کے نزدیک اذان نہیں دینا چاہئے۔ شریعت کی رو سے کہاں کھڑا ہو کر اذان دینا چاہئے ؟ مطلع فرمایا جائے۔ (۲) اگر کوئی شخص رمضان شریف میں انتقال کیا، ان کے لئے کیا درجہ ہے ؟ ایک مولوی صاحب کا کہنا ہے کہ رمضان شریف میں جو شخص انتقال کرتا ہے، تاقیامت اس کو قبر کے عذاب سے نجات ملتی ہے۔ منشی جی کا کہنا ہے کہ صرف رمضان ماہ تک قبر کے عذاب سے محفوظ ہو گا، اس کے بعد قبر کا عذاب ہوگا۔ شریعت کی رو سے مطلع فرمایا جائے۔ (۳) زید کی بیوی گھر میں موجود رہتے ہوئے اپنی سالی سے زید نے زنا کیا۔ کچھ لوگوں نے زنا کرتے دیکھا۔ ایک منشی جی کا کہنا ہے کہ بیوی موجود رہتے ہوئے اپنی سالی سے زنا کرنے سے زید کا نکاح ٹوٹ گیا، ثانی نکاح کرنا ہو گا۔ مولوی صاحب کا کہنا ہے کہ نکاح نہیں ٹوٹابلکہ زید گناہ کا حقدار ہوا، اس کو شریعت کی رو سے سخت سزاملنی چاہئے ۔ شرعی حکم سے مطلع فرمایا جائے۔ المستفتی: ایم آر آزاد، کیئر آف بی پل پان شوپ بس اسٹینڈ، پوسٹ ٹھا کر گنج ضلع پورنیہ، (بہار)
الجواب: (۱) قبر کے نزدیک قبلہ رو کھڑے ہو کر اذان دے۔ اور مولوی مذکور کا قول غلط ہے ، اس پر تو بہ لازم ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جو شخص سنی صحیح العقیدہ آخر رمضان میں انتقال کرے اس کے لئے کرم الہی سے امید ہے کہ بے عذاب جنت میں داخل ہو۔ حدیث میں ہے: "من وافق موته عند انقضاء رمضان دخل الجنة-الحديث" اخرجه ابو نعيم عن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم . دوسری حدیث میں حضور علیہ السلام سے مروی ہے: (1) من صام يوما ابتغاء وجه الله ختم له بها دخل الجنة. (۲) جو کسی دن کا روزہ رکھے خالص رضائے الہی کے لئے اور اس پر اس کا خاتمہ ہو، جنت میں داخل ہوا۔ احمد عن حذیفہ۔ اس حدیث سے رمضان کے تمام دنوں بلکہ علاوہ رمضان کے جب بھی کسی روزہ دار کا خاتمہ ہو، بشارت عام ظاہر ہے۔ یہ برکت ماہ رمضان گناہ گار کے لئے امید تخفیف ہے اور منشی جی کی تفصیل غلط ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) حلية الأولياء ، ج ٥ ، ص ٢٦ ، دار الكتب العلمية، بيروت (2) مسند امام احمد، ج ۷، ص ٧١٤، عالم الكتب، بيروت (۳) زید بہت سخت گناہ گار مستوجب نار حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہے ، تو بہ کرے مگر اس فعل سے اس پر اس کی بیوی حرام نہ ہوئی۔ در مختار میں ہے: في الخلاصة: وطئ اخت امرأته لا تحرم عليه امرأته . (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۲۲ شوال المکرم ۱۴۰۳ھ (3) الدر المختار ، كتاب النکاح، فصل فى المحرمات، ج ٤ ، ص ۱۰۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت