لفظ "رضا" کا صحیح تلفظ: را کے زبر کے ساتھ یا زیر کے ساتھ؟
رضا عربی میں را کے کسرہ کے ساتھ اور اُردو میں را کے فتحہ کے ساتھ مستعمل ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و فضلائے محققین مسئلہ ذیل میں کہ ہمارے یہاں یہ بحث بہت دنوں سے ہو رہی ہے کہ رضا راء“ کے زبر کے ساتھ صحیح ہے یا رضا راء“ کے زیر کے ساتھ ؟ یہ بحث امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ کے نام سے نکلی ہے ۔ کچھ نو فارغ علماء کہتے ہیں کہ آپ کلام احمد رضا بفتح الراء) اور کچھ لوگ کہتے ہیں احمد رضا (بكسر الراء) ہے اور عربی ہو یا اردو ہو، ہر جگہ بالالتزام رضا ہی پڑھتے ہیں اور تاکید آ پڑھواتے ہیں ، بلکہ فرض سمجھتے ہیں ، جو لوگ رضا کے قائل ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ المنجد وغیرہ لغات میں رضا کا ذکر ہے، رضا کا ذکر نہیں ہے اور جو لوگ رضا کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ سلسلہ رضویہ کے شجرہ میں کئی جگہ رضا راء“ کے زبر کے ساتھ آیا ہے، نیز یہ کہ حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ کے سامنے ہمیشہ رضا ”راء“ کے زبر کے ساتھ پڑھا گیا لیکن کبھی بھی حضرت نے منع نہیں فرمایا۔ لہذا امر طلب یہ ہے کہ رضا فتح الراء درست ہے یا رضا بكسر الراء؟ پورے حوالہ جات کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں۔ المستفتی: محمد انور علی رضوی نانپاروی، مدرس، رامپور، بوني
الجواب: عربی میں رضا بکسر را مستعمل ہے اور مجھے یاد آتا ہے کہ رضا بفتح راہ بھی ایک لغت ہے اگر چہ یہ قلیلہ ہے لہذا دونوں طور پر صحیح ہے اور اردو میں رضا فتح را وہی مستعمل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله