پیر کی بیوہ کے سامنے نامحرم مرید کے آنے اور سزا یافتہ شخص کی امامت کا شرعی حکم
علمائے دین و مفتیان شرع متین ماحی بدعت حامی سنت ! السلام علیکم عالیجناب اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ زید سرکاری ملازمت سے جرم غبن، دھوکہ دہی میں دو ماہ کی سزا کاٹ کر برخاست ہو چکا ہے۔ یہی شخص متذکرہ بالا اپنے شیخ کی جائیداد (ملکیت) کے لائی میں صبح کے مکان مسکونہ میں سکونت پذیر ہے۔ پیر کی عمارت کے ہر گوشہ و در و دیوار چوکھٹ کو اڑ وغیرہ کو سجدہ کی شکل میں بوسہ دیتا ہے۔ اپنے پیر کی ایک لالٹین جس میں صرف شیشہ کا چوکھٹا ہے اور ایک مزار کے سرہانے رکھا ہوا ہے اس میں موم بتی جلا کر یومیہ بوقت اشراق سجدہ کی شکل میں بوسہ دیتا ہے اور مرحوم پیر کی بیوہ کے ساتھ ایک ہی مکان میں سکونت پذیر ہو کر رہائش اور خور دو نوش کرتا ہے۔ بیوہ کے ساتھ متذکرہ بالا شخص زید ایک نامحرم ہوتے ہوئے بھی اپنی موجودگی کا کوئی احساس نہیں کرتا۔ پیر کی بیوہ کے پیروں میں اپنا سر رکھ کر بوسہ دیتا ہے۔ اور یہی شخص سیاہ گر تا زیب تن کر کے کچھ لوگوں کو اپنا مرید بھی کر چکا ہے اس کے باوجود بیلوں والی مسجد میں جبریہ و فخریہ گا ہے لگا ہے امامت کرتا ہے۔ مستقل امام کی عدم موجودگی میں معدود چند افراد جو اس کے مرید ہیں کے علاوہ جملہ نمازی اس کی اقتدا سے قطعا نفرت وگریز کرتے ہیں۔ نیز کچھ مقتدی اس مسجد سے کنارہ کشی بھی کر چکے ہیں اور چند جملے بعد نماز فجر و صلوۃ و سلام برائے ثواب واسطے شیخ کے اور اپنے پیر کے نام سے الی یوم القیامۃ علیہ الصلاۃ والتسلیم تین بار ادا کرتا ہے۔ کیا ایسے شخص کی امامت جائز ہے؟ براہ کرم مفصل تحریر بعد ملاحظه سوال عنایت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔ المستفتی: حشمت اللہ پینٹر ودیگر مقتدیان محله محمد واصل متعلقہ مسجد بیلوں والی، پیلی بھیت
بر تقدیر صدق سوال زید کے اکثر افعال مندرجہ سوال خلاف شرع ہیں اور بوقت اشراق موم بتی جلا نا محض بے ضرورت و نا جائز ہے اور اسے بوسہ دینا اور اس کے لئے جھکنا بہت سخت ہے اور پیرانی سے پردہ نہ کرنا اور اس کے پیر کا بوسہ دینا بھی حرام بد کام بد انجام ہے۔ زید کے یہ افعال اگر شرعا ثابت ہیں تو وہ لائق امامت و پیری نہیں، اسے امام بنانا اور اس سے مرید ہونا سخت گناہ ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۷ صفر المظفر ۱۴۰۶