وراثت کی تقسیم ۴ لڑکوں، ۲ لڑکیوں اور بیوہ کے درمیان اور کاشت کی زمین میں لڑکیوں کے حصہ کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص اپنے پیچھے ۴/ لڑکے اور ۲ / لڑکیاں شادی شدہ،ار بیوہ چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اس کی جائیداد میں مکان، دوکانیں اور کچھ کاشت کی زمین ہے ۔ اس کی مذکورہ جائیداد مندرجہ بالا افراد میں کس حساب سے تقسیم ہوگی ؟ اور ہر ایک کو کتنا حصہ ملے گا؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کاشت کی زمین میں لڑکیوں کا حصہ نہیں ہوتا۔ کیا ان لوگوں کا کہنا درست ہے ؟ اور اگر ہے تو کس بنیاد پر ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔ المستفتی: جمیل احمد رضوی، قصبه بمیری، بریلی
الجواب: صورت مسئولہ میں بعد تقدیم ما تقدم وادائے دیون کل ترکہ اس شخص کا بشرط عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین اسی (۸۰) سہام پر تقسیم ہو گا جن سے ۱۰ر سہام بیوی کو اور ۱۴ر سہام بیٹیوں کو اور ۷/۷/سہام ہر بیٹی کو ملیں گے ۔ کاشت اگر متروکہ متوفی ہے تو وہ بھی ورثہ پر بٹے گی، وہ لوگ غلط کہتے ہیں۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ