مدرسہ کے لئے وقف شدہ زمین پر مسجد اور درمیانی منزل میں مسجد کی تعمیر کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ : (1) ایک دینی ادارے کے ذمہ داران نے عوامی چندے سے ایک زمین خریدی۔ خریدتے وقت ہی انہوں نے یہ نیت کرلی کہ نیچے کے حصے میں مدرسہ کی تعمیر ہوگی اور اوپر کے حصے میں مسجد بنائی جائے گی اور پھر مسجد کے اوپر بھی مدرسہ کی عمارت تعمیر کی جائے گی یعنی در میانی منزل مسجد ہوگی۔ ایسی مسجد کا شرعاً کیا حکم ہے ؟ دلائل و حوالے کے ساتھ واضح فرمائیں! (۲) کسی مقام پر اذان و اقامت کے ساتھ نماز پنجگانہ کی جماعت ہوتی ہے۔ ایسے جماعت خانے کو عرفا مسجد کہا جائے تو شرعا کیسا ہے ؟ (۳) مسجد البیت کسے کہا جاتا ہے ؟ اس کا شرعی معنی و مفہوم کیا ہے ؟ بحوالہ وضاحت فرمائیں۔
الجواب: ار تا۵) صورت مسئولہ میں جبکہ وہ پوری زمین مدرسہ کیلئے وقف کر دے تو اس پر مسجد نہیں بن سکتی۔ دوسری منزل بھی مدرسہ کی عمارت ہوگی۔ البتہ وہاں نماز پڑھنا جائز ہے اور اسے عرفا مسجد کہ سکتے لیکن احکام مسجد کے جاری نہ ہوں گے اور مسجد البیت عرفا وہ جگہ ہے جو گھر میں نماز کیلئے بنالیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) روزہ کی حالت میں انجکشن لگوانا جور گوں کے ذریعہ دوا کو اندر پہنچائے، مفسد روزہ نہیں ہے البتہ اس سے احتراز ممکن ہو تو بچنا چاہئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب۔ سوال میں بعض باتیں تفصیل طلب ہیں۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی