کسی کو گھوڑے گدھے سے تشبیہ دینے اور عالم صاحب کے ہاتھ کھینچ لینے کا حکم
نے گھوڑے اور گدھے سے تشبیہ دی ہے ؟ بصورت نفی عمرو کے لئے کیا حکم ہے ؟ (۳) زید ایک سنی عالم سے ملنے گیا اور مصافحہ کیا اور دست بوسی کرنا چاہی تو عالم صاحب نے اپناہاتھ کھینچ لیا اور کہا کہ ظاہری محبت کا اظہار کرنے سے کیا فائدہ؟ پہلے اپنا قلب صاف کر لو! جبکہ زید عرصہ دراز سے عالم صاحب کا عقیدت مند اور سنی ہے۔ لیکن عالم صاحب کی اس بات پر زید بہت شرمندہ ہوا اور عوام کے سامنے ندامت سے سرجھکا لیا اور دل کو بے حد تکلیف پہنچی۔ دریافت طلب بات یہ ہے کہ عالم صاحب یہ فعل درست ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو عالم صاحب پر شریعت کا کیا حکم ہے ؟ مطلع فرمائیے گا۔
الجواب: المستفتی: شبیر احمد ، معرفت مولانا محمد ادر میں رضاخاں صاحب رضوی خطیب جامع مسجد ڈنڈوہ بزرگ، محلہ احمد نگر ضلع فرخ آباد ، (یوپی) (1) وہ جواب کس دار الافتاء کا ہے ؟ لکھنا چاہئے تھا، اس فتوی کی نقل بھیجے ، اسے دیکھ کر جواب دیا جائے گا۔ ان شاء اللہ العزیز (۲) ان کی نشاندہی عمرو پر ہے۔ لہذا یہ سوال عمرو سے ہی چاہئے اور مجھے ایسے لوگوں کا علم نہیں جن کے لئے عمرو نے وہ بات کہی ہے۔ اس کا ثبوت بھی عمرو ہی کے ذمہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) زید کو ان عالم صاحب سے صفائی کرنا تھی اور ناراضگی کی وجہ پوچھنا تھی ۔ اگر واقعی وہ عالم صاحب زید سے بے وجہ شرعی کشیدہ ہیں تو گناہگار ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۲۱؍ رجب المرجب ۱۴۰۲ھ