مختلف علماء کو بلانے اور مسلک اعلیٰ حضرت کے حوالے سے ان پر اعتراضات کا مسئلہ
(۲) زید کے گاؤں میں عرصہ دراز سے سالانہ اجلاس ہوتے ہیں جس میں وہ سنی علماء کو بلاتا ہے جیسے کہ مولانا محمد حسین سنبھلی، مولانا انتخاب قدیری، مولانا عبید اللہ خاں اعظمی، مولانا سید مدنی میاں، مولانا ہاشمی میاں ، بیکل اتساہی وغیرہ۔ عمرو کہتا ہے کہ ایسے علماء کو نہ بلاؤ جو مسلک اعلیٰ حضرت کے خلاف ہوں۔ زید کہتا ہے کہ یہ علماء تو عرس رضوی میں جاتے ہیں اور وہاں کے اسٹیج پر جاکر تقریر کرتے ہیں، اگر اعلیٰ حضرت کے مسلک کے خلاف ہوتے تو وہ تقریر کیسے کرتے؟ اس پر عمرو نے کہا کہ بریلی کے اسٹیج پر گدھے اور گھوڑے بول جائیں تو میں ان کا ذمہ دار نہیں ہوں اور میں اپنے یہاں ایسے علماء کو بلاؤں تو میں ذمہ دار ہوں، میں ان کو اپنے یہاں ایک پیالی چائے کو بھی نہ پوچھتا اور نہ ان کا احترام کرتا۔ زید کہتا ہے کہ وہ خود اُن علماء سے ملتا ہے اور مصافحہ بھی کرتا ہے۔ لہذا دریافت طلب بات یہ ہے کہ ان علماء میں مسلک اعلیٰ حضرت کے خلاف کون ہیں؟ کیا ان کو بقول عمر و بلانا چاہئے کہ نہیں ؟ اور عمرو خود ملتا ہے تو اس کا ملنا صحیح ہے کہ نہیں ؟ اگر عمرو کا ان علماء کو غیر سنی کہنا درست نہیں تو عمرو کے واسطے شرعی حکم کیا ہے ؟ اور یہ حکم بھی بنایا جائے کہ واقعی بریلی کے اسٹیج پر ایسے لوگ بولتے ہیں جن کو عمرو
(۲) ان کی نشاندہی عمرو پر ہے۔ لہذا یہ سوال عمرو سے ہی چاہئے اور مجھے ایسے لوگوں کا علم نہیں جن کے لئے عمرو نے وہ بات کہی ہے۔ اس کا ثبوت بھی عمرو ہی کے ذمہ ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم