نافرمان بیٹے کے ساتھ سلوک اور اسے وراثت سے محروم کرنے کا حکم
سوال
سوائے اللہ کے سہارا کوئی نہیں۔ مکان دینا چاہئے یا نہیں ؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: المستفتی: محمد ظفر صاحب کیئر آف حکیم راحت حسین صاحب رضوی لائن نمبرا، آزاد نگر ، ہلد وانی ضلع نینی تال اگر یہ واقعہ ہے جو سوال میں تحریر ہوا تو آپ کا بیٹا سخت گناہگار حق اللہ وحق پدر میں گرفتار مستوجب نار ہے۔ اس پر لازم ہے کہ آپ سے حسن سلوک کرے اور بصورت احتیاج آپ کو خرچ دے اور نازیباسلوک سے باز آئے اور آپ سے معافی چاہے، خدا سے توبہ کرے ورنہ عذاب شدید کا ستحق رہے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور نافرمان بیٹے کو اپنی جائیداد سے اپنی حیات میں محروم کرنا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله یکم / رجب المرجب ۱۴۰۲ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۱ · صفحہ ۱۷۸
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
نافرمان باپ پر ظلم کرنے والے بیٹے کا حکم
باب: تکملہ
تبلیغی جماعت کا مسجد میں ٹھہرانا، ان کی تقریر سننا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم
باب: تکملہ
شریعت میں غاصب کی تعریف، فسق و فجور کا مطلب اور غاصب کی تصدیق کرنے والے کا حکم
باب: تکملہ
وہابی نکاح خواں کے نکاح پڑھانے اور نکاح کی صحت کا مسئلہ
باب: تکملہ
مختلف علماء کو بلانے اور مسلک اعلیٰ حضرت کے حوالے سے ان پر اعتراضات کا مسئلہ
باب: تکملہ