نافرمان باپ پر ظلم کرنے والے بیٹے کا حکم
السلام علیکم ! گزارش خدمت حضرت کے دربار میں، میں عبد القدیر بابا کا غلام ہوں۔ میرا ایک لڑکا نافرمان بیوی کے حکم پر چلتا ہے اور بیوی کے حکم سے مجھ کو بدنام کیا۔ اب بیوی حکم دیتی ہے سر قلم کرنے کو، سر قلم کرنے کو تیار ہے۔ اب اس کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ اس کو پانی پیسہ دینا چاہئے یا نہیں دینا چاہیئے ؟ بچوں کو پیار نہیں کر سکتا، ان کے مکان پر نہیں جاسکتا، ادھر اُدھر اپنا گزارہ میں کرتا ہوں سونے بیٹھنے کا کھانے پینے کا۔ آپ ایسا فتویٰ دیجئے جو وہ دب جائیں ۔ باقی سب خیریت ہے ۔ مجبوری کے ساتھ میں لکھا۔
الجواب:المستفتی: محمد ظفر صاحب کیئر آف حکیم راحت حسین صاحب رضوی لائن نمبرا، آزاد نگر ، ہلد وانی ضلع نینی تال اگر یہ واقعہ ہے جو سوال میں تحریر ہوا تو آپ کا بیٹا سخت گناہگار حق اللہ وحق پدر میں گرفتار مستوجب نار ہے۔ اس پر لازم ہے کہ آپ سے حسن سلوک کرے اور بصورت احتیاج آپ کو خرچ دے اور نازیباسلوک سے باز آئے اور آپ سے معافی چاہے، خدا سے توبہ کرے ورنہ عذاب شدید کا ستحق رہے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور نافرمان بیٹے کو اپنی جائیداد سے اپنی حیات میں محروم کرنا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله یکم / رجب المرجب ۱۴۰۲ھ