شریعت میں غاصب کی تعریف، فسق و فجور کا مطلب اور غاصب کی تصدیق کرنے والے کا حکم
شریعت میں غاصب کسے کہتے ہیں ؟ فسق و فجور سے کیا مراد ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : (1) شریعت مطہرہ میں غاصب کسے کہتے ہیں؟ (۲) شریعت مطہرہ میں فسق و فجور سے کیا مراد ہے؟ (۳) جو شخص جان بوجھ کر غاصب کی تصدیق کر دے اور اپنی مہر لگادے اس شخص کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے ؟ جواب دیں۔ ان تینوں باتوں کا نمبر وار جواب عنایت فرمائیں ۔ بینوا توجروا۔ فقط، والسلام عبدالعزیز خاں اشرفی رضوی اتواری، ریلوے اسٹیشن چنگی نالہ نمبر ۱۵، ناگپور
(۱۳) جو شخص کسی کا مال ناحق دبا لے ، غاصب ہے اور جان بوجھ کر غاصب کی تصدیق حرام۔ واللہ تعالی اعلم (۲) گناہ کبیرہ یا صغیرہ کا ارتکاب فسق و فجور ہے اور جو گناہ کا عادی ہو، اسے فاسق کہا جاتا ہے۔ مفردات امام راغب میں ہے: فسق فلان خرج عن حجر الشرع و يقع بالقليل من الذنوب وبالكثير لكن تعورف فيما كان كثير ا - الخ . ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب۔ اور کبھی میچور سے خاص زنا مراد لیتے ہیں اور صغیرہ پر اصرار کمیرہ ہے۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی