تین طلاق کی مدعیہ اپنے شوہر سے دور بھاگے
تین طلاق کی مدعیہ اپنے شوہر سے دور بھاگے ! بیان۔ شفیق النساء نے اپنے وکیل مولانا عبد اللطیف صاحب سے بیان دیا کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی۔ بیان گواه اول: جناب ننھے صاحب، ساکن رتن مٹی تحصیل پٹی ضلع پرتاپ گڑھ کا بیان ہے کہ میں کھنڈور میں صابر علی کی دوکان کو جانتا ضرور ہوں مگر آج تک وہاں نہیں گیا اور جہاں پر یہ طلاق کا معاملہ تھا وہاں بھی ہماری ان کی ملاقات نہیں ہوئی اور میرے سامنے مدعاعلیہ نے کہا کہ میں نے اس کو طلاق دیا۔ یہ الفاظ پانچ بار کہے اور ایک تحریر تھی جسے پھاڑ ڈالا۔ طلاق نامہ طلاق سے پہلے پھاڑ دیا۔ جب میں نے پوچھا کہ آپ نے طلاق کیوں دیا؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ لڑکی میرے رکھنے کے قابل نہیں اس لئے میں طلاق دیتا ہوں۔ بیان گواہ ثانی : جناب محمد ہارون ساکن بو جھی، تحصیل پٹی ضلع پرتاپ گڑھ کا بیان ہے کہ لڑکی غلط ہے اس کو میں قطعی نہیں رکھوں گا۔ شفیق النساء کو طلاق دے دیا اور یہ الفاظ پانچ بار دہرائے اور طلاقنامہ کا کاغذ لڑکی کی ماں نے پھاڑ دیا۔ بیان مد عاعلیہ : یعنی (شوہر عبدالرشید نے بیان کیا کہ گواہ ثانی نے اپنی دُکان پر مجھ سے کہا کہ جو چیز تم کو ملی ہے وہ صحیح ہے یا غلط؟ یہ بات میں نے اپنی بیوی سے کہا تو اس نے برا بھلا کہا اور کہا کہ جب وہ آئیں گے تو میں سمجھوں گی۔ یہاں تک کہ ایک شادی کے موقع پر محمد ہارون میرے گھر آئے تو میں نے ان سے پوچھا تو وہ انکار کر گئے اور کہا کہ آپ چھوڑ دیجئے ہم دونوں کو رکھ لیں گے ۔ میں نے کہا کہ اس دور میں کوئی ایک بیوی کو کھلا پلا نہیں پاتا، تم دونوں کو کیسے رکھ لو گے ؟ اس پر ہارون نے پھر کہا کہ آپ چھوڑ دیجئے اور آپ طلاق دیں یا نہ دیں فیصلہ ہو جائے گا۔ اس کے بعد اور کوئی بات نہیں ہوئی اور گواہ اول کے بارے میں عبدالرشید کا بیان ہے کہ ان سے میری ملاقات بھی نہیں ہوئی اور جس وقت میری گفتگو ہارون
الجواب: المستفتی: دارالعلوم گلشن مدینہ ، پلٹن بازار ضلع پرتاپ گڑھ ، یوپی صورت مسئولہ میں شوہر منکر ہے اور گواہوں کے بیان متعارض ہیں لہذ اطلاق ثابت نہ ہوئی مگر بیوی جبکہ تین طلاق کی مدعیہ ہے تو شوہر سے دور بھاگے اور اُسے اپنے او پر قابونہ دے اور شوہر کو چاہئے کہ وہ اس کی گلو خلاصی کر دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۳۰/ جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ