وارث کے لئے وصیت بے اجازت دور شدہ صحیح نہیں !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین دریں مسئلہ کہ : (1) میرے والد بزرگوار نے اپنی زندگی میں ایک وصیت نامہ ۱۷-۸-۷۵ء کو لکھا، جس پر دو گواہوں کے دستخط بھی ہیں، اس وصیت کی رو سے وصیت میرے والد اور میرے ایک بڑے بھائی محمد علی مرحوم جن کا انتقال والد صاحب کی زندگی ہی میں ۴-۳-۷۲ء کو ہو گیا تھا، کے بڑے لڑکے خورشید احمد کے نام لکھی تھی۔ اس وصیت میں ایک پشتانی مشترکہ مکان کا ذکر ہے جس پر کسٹوڈین کا قبضہ تھا اور اس وقت والد صاحب نے وصیت لکھی تھی، اس وقت تک سرکار سے اس کا فیصلہ نہیں ہوا تھا، والد صاحب کے انتقال کے بعد کسٹوڈین کا اس زمین کی نیلامی کا ہمیں نوٹس ملا۔ چونکہ اس پشتانی مکان میں بھی خورشید احمد کو حصہ دار بنایا تھا اس لئے خورشید سے ہم نے کہا کہ اس مکان میں بھی تم کو والد صاحب نے آدھا حصہ دار بنایا ہے اس لئے اگر نیلامی میں اپنے نام فتح ہو گئی تو آدھی رقم آپ دیں گے ۔ تو خورشید احمد نے ایک گواہ کے سامنے نیلامی کی رقم دینے سے انکار کے ساتھ ساتھ یہ بھی صاف لفظوں میں کہ دیا کہ مجھے اس مکان سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، بولی بولکر آپ خرید لیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ لہذا نیلامی کے روز بولی میرے نام ہوگئی اور تاریخ ۳۰-۶-۸۰ء کو میں نے پوری رقم ادا کر کے سیل ڈیڈ میرے نام کی کروالی۔ (۲) وصیت کردہ کے تین لڑکیوں میں سے دولڑکیاں حیات ہیں اور ایک لڑکی والد صاحب کی حیات ہی میں گزر گئی تھی جس کے ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہے جن کو وصیت میں کوئی حصہ نہیں دیا گیا ہے۔ (۳) خورشید احمد وصیت کے ماننے سے بھی انکار کرتے ہیں۔ (۴) میرے والد صاحب کے اپنے پوتے خورشید احمد کو جو جائیداد کا حصہ دیا ہے وہ ایک تہائی سے بہت زیادہ اور آدھے سے کچھ کم ہے۔
صورت مسئولہ میں وصیت وارث و غیر وارث کے لئے کی گئی ہے اور وارث کے لئے وصیت بے اجازت ورثہ صحیح نہیں ۔ حدیث میں ہے: لا وصية لوارث الا ان يجيز الورثة. اور وارث آپ ہیں تو آپ کے لئے جو وصیت ہوئی وہ اجازت دیگر ورثہ پر موقوف ہے اور خورشید احمد کے لئے وصیت تہائی سے زیادہ میں بے اجازت ورثہ نافذ نہ ہوگی۔ مکان کی وصیت کا بھی وہی حکم ہے جو گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب ۲۶ جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی