قربانی کے وجوب، تعزیہ داری کی حرمت اور صدقہ فطر کے مصارف کا بیان
کہ ایک سال مالک اپنے نام سے کرے اور دوسرے سال گھر کے کسی دوسرے بشر کے نام سے ۔ اس پر گرم بحث و مباحثہ چل رہا ہے اور زید کہ رہا ہے کہ مالک پہلے اپنے نام سے کرے۔ بکر نے جواب دیا کہ اگر کسی شخص کو دو شخصی خریدنے کی توفیق نہیں ہے تو گھر والے مالک کے سوا محروم رہ گئے۔ خلاصہ یہ کہ ہر سال مالک ہی کے نام سے قربانی کا زید نے اعلان کیا ہے۔ اس پر بہت ہی ضد بحث چل رہی ہے۔ لوگ قربانی کے مسائل عوام الناس کے سامنے بیان ہی نہیں کرتے جس سے عوام کو معلوم ہو۔ بحوالہ قرآن و حدیث جواب عنایت فرمائیں۔ (۲) تعزیہ داری کرنا کیسا ہے ؟ اس پر بہت اعتراضات ہو رہے ہیں۔ (۳) فطرہ کا پیسہ کن لوگوں پر خرچ کرنا چاہئے ؟ کچھ لوگ پیسہ اکٹھا کر کے بلڈنگ وغیرہ بناتے ہیں، یہ پیسہ مسجد یا مدرسہ میں خرچ کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ جواب سے مستفیض فرمائیں ۔ عین کرم ہو گا !
الجواب: (1) قربانی جس پر واجب ہے وہ اپنی طرف سے قربانی کرے، پھر نفلی قربانی میں حسب استطاعت اختیار ہے، جتنی چاہے کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) حرام ہے، تفصیل کے لئے رسالہ تعزیہ داری دیکھو۔ واللہ تعالیٰ (۳) فقیر مسلم کو دیں، پھر اگر وہ بخوشی مسجد یا مدرسہ کو دے دے تو وہ رقم اس کے حسب حکم صرف کی جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله شب ۱۹ جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی