نافرمان بیوی اور مختلف بیویوں سے اولاد کے درمیان وراثت کی تقسیم کا بیان
دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ جاتی رہی۔ جب چاہا اپنے میکے چلی گئی، زید کے کہنے پر کوئی عمل نہ کیا۔ زید نے ہر چند کوشش کر لی مگر وہ اپنی عادت سے باز نہ آئی اور یہ کہتی رہی کہ میرا سسر جو کہے گا وہ کروں گی۔ زید کا والد زید کے چند وجوہات کی بنا پر ناراض تھا وہ زید کی بیوی کو ترغیب دیتا رہا کہ وہ زید کا کہنا نہ مانے یہاں تک کہ زید کے خلاف زید کے باپ نے بیٹے کی بیوی کو بہکا کر بے نقاب کچہری میں مقدمہ دائر کرنے کو کھڑا کر دیا جس کا صرف مطلب زید کو بدنام کرنا تھا۔ چونکہ زید ایک عالم سنی صحیح العقیدہ ہے، لوگوں میں اس کی کافی عزت ہے، جسے برباد کرنے کی غرض سے زید کا باپ اور زید کا بھائی کوشش کرتا رہا۔ زید کی اس پہلی بیوی سے تین لڑکیاں ہیں جن کی زید شادی کر چکا ہے۔ زید نے مجبور ہو کر دوسری بیوی کرلی جس سے تین لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں۔ زید کی پہلی والی بیوی اس وقت بھی اپنے والد کے پاس رہتی ہے اور بے پردہ گھومتی پھرتی ہے۔ زید کا کہنا ہے کہ وہ اس کے پاس رہے اور اپنا خرچہ لے کر عزت سے پردہ نشین بن کر فرمانبردار رہ کر زندگی گزارے مگر وہ نہیں مانتی۔ اب عرض یہ ہے کہ: (1) زید کی جو جائیداد ہے اس میں زید کے بعد کیا اس طرح کی نافرمان بیوی حصہ لے سکتی ہے ؟ اور اگر لے سکتی ہے تو اس کا کیا حق ہو گا؟ (۲) اگر زید اس کا مہر دے کر اسے طلاق دے دے تو پھر زید کی جائیداد سے حصہ لے گی یا نہیں ؟ (۳) زید کی پہلی بیوی سے سر لڑکیاں ہیں جن کی شادی وہ کر چکا ہے۔ دوسری بیوی سے بھی تین لڑکیاں ، دولڑ کے ہیں۔ (۴) زید کے بعد اس کی جائیداد میں سے دوسری بیوی کا جو اُس کے شریک حیات ہے، کتنا حصہ ہو گا؟ (۵) لڑکوں کا کتنا حصہ ہو گا ؟ (1) پہلی والی بیوی کی تینوں لڑکیاں جن کی شادی کر چکا ہے وہ کس قدر حصہ کی مالک ہوں گی ؟ (۷) دوسری بیوی کی لڑکیوں کا کتنا حصہ ہو گا؟ یا کہ سب لڑکیوں کا برابر ہو گا؟ (۸) زید کا والد اور بھائی جس نے اس کی بیوی کو اپنی ضد میں زید سے بدظن کیا ہے، بے نقاب کچہری
الجواب: معرفت حضرت مولانا جمین قادری صاحب، قاضی شهر بوندی، راجستھان (1) ہاں، بشرط قیام نکاح وہ ترکہ زید میں آٹھویں کے نصف حصہ کی حقدار ہوگی یعنی دونوں بیویوں کو نصف میں سے ملیگا، مگر یہ حکم زید کی وفات کے بعد ہے، زندگی میں ترکہ کا سوال نہیں ہوتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نہیں، جبکہ صحت میں طلاق دے دے اور وفات سے پہلے عدت گزر جائے اور یہ حکم طلاق رجعی کا ہے ، طلاق بائن میں عدت گزرنے کی شرط نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۳ تا ۷) دوسری بیوی کا بھی حصہ آٹھواں ہو گا جبکہ پہلی بیوی نکاح میں نہ رہے اور لڑکے دوہرا، اور دونوں کی لڑکیاں اکبر حصہ پائیں گی۔ واللہ تعالی اعلم (۸) سخت گنہگار مستوجب نار ہیں، توبہ کریں، مگر زید کو حلال نہیں کہ ان احکام کو سند بنا کر اپنے والد سے مخاصم یا کشیدہ ہو۔ بھائی کے معاملہ میں اسے اختیار ہے اور درگزر بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۵/ جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ