زید کے ترکہ کی تقسیم، دو بیویوں اور دو بھائیوں کے درمیان وراثت اور مہر کے احکام
زید کا انتقال ہو گیا، اس نے اپنے باپ کے ترکہ میں اور ایک مکان اور اپنی ذاتی کمائی سے بنائے دو مکان چھوڑے۔ زید کے کوئی اولاد نہیں ہے، صرف دو بیوی ہیں اور وہ دونوں ذاتی کمائی کے مکان ان دونوں بیویوں کے لئے بنوائے تھے لیکن وہ مکان نام نہیں کروا پائے تھے۔ زید کے دیگر دو بھائی عمرو، بکر ہیں، ان کو بھی باپ کے ترکہ سے ایک ایک مکان ملا تھا۔ اب عمر و بکر نے زید کے وہ دونوں مکان جو زید نے اپنی ذاتی کمائی سے بنوائے تھے ان دونوں مکانوں پر بھی عمرو بکر قبضہ چاہتے ہیں اور کہتے ہیں اس پر بھی ہمارا حق ہے ۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید نے تین مکان چھوڑے، ایک مکان باپ کے ترکہ سے ملا اور دو مکان اپنی ذاتی کمائی سے بنوائے۔ ایسی صورت میں زید کے تینوں مکانوں میں کس طرح سے بٹوارہ ہو گا؟ دونوں بھائی اور دونوں بیوہ بیویوں کو کس طرح سے حق پہنچے گا ؟ اور زید کی دونوں بیوہ بیویوں کا جو مہر ہے جو زید نے ادا نہیں کیا ہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ شرع شریف کی روشنی میں جواب عطا فرمائیں۔
الجواب: المستغنی : سید آل محمد میاں ، پنڈ ھیرا، تحصیل سپیدی ضلع بریلی اگر یہ واقعہ ہے کہ زید نے مذکورین کے سوا اور کوئی وارث نہ چھوڑا تو بعد تقدیم ما نقدم و ادائے مہر ہر دو زوجہ و دیگر دیون وغیرہ جو کچھ ترکہ بچے وہ ۸ / سہام پر تقسیم ہو گا جن مین سے ایک ایک سہم ہر دو بیوی کو اور ۳-۳ر سہام ہر دو بھائی کو ملیں گے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۲۸ جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی بہاء المصطفیٰ قادری