نکاح فاسد میں بعد علم متارکہ وجدائی فرض ہے
سلام مسنون ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں : زید نے ہندہ کو طلاق دی تین بار اور دوسرے دن ہندہ نے بکر سے نکاح کیا، عدت بھی نہ ہونے پائی تھی۔ اس واقعہ کو تقریبا دو ڈھائی سالیں ہو چکی ہیں، اس درمیان ہندہ سے ایک لڑکی بھی ہو چکی ہے۔ اب بکر نے ہندہ کو طلاق دے دی تین بار ۔ اب بکر ہندہ سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ بکر اور ہندہ کو کیا کرنا چاہئے ؟ مسئلہ سے مطلع فرمائیں۔ فقط والسلام الخادم: ابرار خاں پورنپوری
الجواب: صورت مسئولہ میں بکر سے ہندہ کا نکاح چونکہ عدت میں ہوا اس لئے یا تواصلا نہ ہوا بلکہ یہ نکاح سفاح ((زنا) ہوا جبکہ بکر کو ہندہ کا معتدہ ہونا معلوم تھا۔ اور اگر بکر ناواقف تھا تو نکاح فاسد ہوا اور بعد علم متارکه و جدائی فرض تھی اور تاخیر گناہ اور نکاح فاسد میں طلاق دینا متارکہ ہی ہے ، اس سے نکاح صحیح کی طرح ایک یا دو بار طلاق دینے سے عدد طلاق کم نہیں ہوتا ، نہ طلاق ثلاثہ دینے سے عورت سے نکاح حرام ہو، لہذا بکر کو ہندہ سے نکاح جائز ہے۔ ہندیہ میں ہے: وفى مجموع النوازل الطلاق فى النكاح الفاسد يكون متاركة ولا ينتقص من عدد الطلاق كذا في الخلاصة - اهـ . ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۹ ربیع الآخر ۱۴۰۸ھ