چرم قربانی کی قیمت کو قبرستان کی تعمیر و مرمت میں صرف کرنے کا جواز
جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ خیر سے رہ کر خواہان خیریت ہوں، ضروری تحریر یہ ہے کہ میں نے ایک استفتاء ایک ماہ قبل روانہ کیا تھا ابھی تک جواب سے محروم ہوں، استفتاء چرم قربانی کو قبرستان کی مرمت اور چہار دیواری میں لگانے کے بارے میں ہے، کیونکہ چہار دیواری نہ ہونے کے باعث خنزیر وغیرہ قبرستان میں آجاتے ہیں اور قبرستان غیر مسلم علاقہ میں واقع ہے جس کی حفاظت نہایت ضروری ہے۔ یہاں کے مسلمانوں میں اتنی وسعت نہیں کہ دوسری رقم سے یہ کام انجام دیں۔ والسلام خاکسار محمد منظور عالم رضوی، ۹، ایس پی بنرجی روڈ ، عالم بازار ، کلکتہ -۳۵
الجواب: چرم قربانی فروخت کر کے قبرستان کی چہار دیواری کی تعمیر میں لگا سکتے ہیں کہ قربانی اراقت دم سے ہو جاتی ہے اور گوشت و چرم کا مالک قربانی کرنے والا ہوتا ہے، اسے اختیار ہے کہ چرم کو باقی رکھ کر اس سے فائدہ اُٹھائے یا باقی رہنے والی چیز سے بدل کر فائدہ اُٹھائے یا چرم خواہ اس کی قیمت کو صدقہ کر دے تو چرم کا تصدق واجب نہیں ۔ لہذا اسے ہر نیک کام میں لگا سکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم تكملة فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی