بیڑی سگریٹ پینے کی ممانعت اور نقصانات کے متعلق سوال
جناب مفتی صاحب! السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل سوال و جواب کے متعلق: بیڑی سگریٹ پینا منع اور نقصان دہ ہے۔ جالینوس نے فرمایا کہ تم لوگ دھول ربیت اور سڑی بدبودار چیز سے پر ہیز کرو تو تم لوگوں کو مضبح کی ضرورت نہ ہوگی۔ بیڑی سگریٹ پینے کے متعلق خان بہادر احسن اللہ نے فرمایا کہ بیڑی سگریٹ بہت موزی شی ہے، سگریٹ کے اندر دو قسم کی زہریلی چیز ہے۔ اول لکوئن کار بن منکر انڈہ پہلی قسم تمباکو میں ملی ہوئی زہر ٹی شے اور دوسری قسم زہریلی گیس جو خون کو خراب کرتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے حکما نے اپنے رسائل میں اس کے پینے کے نقصانات میں موذی اشیاء کو مفصل بیان فرمایا ہے۔ شریعت کے مطابق علما اور فقہائے کرام کے نزدیک بیڑی سگریٹ پینا مکروہ تحریمی ہے۔ بیڑی سگریٹ پینے والے مولوی، امام اور حافظ کے پیچھے اقتدا کرنا مکروہ تحریمی ہے اور جو نمازیں مکروہات کے ساتھ ادا کی جائیں وہ واجب الاعادہ ہیں ( فتویٰ اسدیہ، ماخوذاز ندائے اسلام کلکتہ دفرفرہ) لہذا آپ سے گزارش ہے کہ مندرجہ بالا جواب صحیح ہے یا غیر صحیح ؟اگر غیر صحیح ہے تو کتاب کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔ عین کرم ہو گا۔ المستفتی: محمد میکائیل، متعلم مدرسه منظر اسلام (بریلی)
بیٹی سگریٹ اور معمولی حقہ جس سے عقل میں فتور نہ سکر آئے، نہ ضر ر کا غالب گمان ہو، جائز ہے اور بچنا بہتر ہے اور جو اس کا عادی ہے اس پر محض اس وجہ سے کوئی الزام نہیں ، نہ اس کی امامت محض اس وجہ سے مکروہ۔ ہاں جو حد اسکار و اضرار تک اسے پیتا ہے اور اس پر یہ امر شرعا ثابت اور مشتہر ہے اس کی امامت ضرور ممنوع و گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ نوٹ : تفصیل کے لئے حقہ المرجان فی حکم شرب الدخان، سید نا الجد الامام احمد رضا خان قدس سرہ دیکھو۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ