عقیقہ کے جانور کے اعضاء کی تقسیم اور رشتہ داروں کے کھانے کا حکم
علمائے دین اہل سنت ! السلام علیکم علمائے دین اہل سنت کیا فرماتے ہیں مسئلہ ذیل میں کہ (1) عقیقہ کے جانور کا سرکس کا حق ہوتا ہے؟ ہم رسالہ بغدادی اور کتابوں میں دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ عقیقہ کے جانور کا سر جو لڑکے کا سر مونڈتا ہے اس کا حق ہوتا ہے یعنی سر مونڈنے والے نائی کو بکرے کا سر دیا جائے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بکرے کا سرکسی کا حق نہیں ہوتا ہے ، گھر میں سب کھا سکتے ہیں۔اس لئے بکرے کا سرکس کو دیا جائے ؟ (۲) کیا بکرا ذبح کرنے والے کا بھی کوئی حق ہوتا ہے؟ (۳) کیا عقیقہ کے بکرے کی ایک ران مسلم دائی کو اور باقی گوشت کے تین حصے کیے جائیں گے ؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دائی مسلم کا کوئی حق نہیں ہوتا ہے ۔ کیا یہ صحیح ہے ؟ (۴) عقیقہ کا گوشت رشتہ دار میں اور عزیز و اقارب میں کس کس کا کھانا درست ہے ؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ماں ، باپ، دادا، دادی، نانی، نانا کو کھانا درست ہے۔ کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ یہ سب رسالہ بغدادی اور کتابوں میں ملتا ہے لیکن کچھ لوگ آپ سے صحیح صحیح اجازت چاہتے ہیں۔ لہذا حضور سے گزارش ہے کہ صحیح صحیح جواب سے مطلع فرمادیں۔ فقط سائل : سلام علی ، گاؤں پھلوائی، پوسٹ نانپارہ ضلع بہرائچ شریف، یوپی
الجواب: (۳۱) بکرے سے متعلق یہ امر جو درج سوال ہوا، غالباً نظر سے نہیں گزرا اور بعض علماء نے فرمایا ہے کہ سری پائے حجام کو اور ایک ران دائی کو دیں باقی گوشت کے تین حصے کریں۔ ایک حصہ فقرا کو دیں اور ایک احباب و اعزاء کو، اور ایک حصہ گھر والے کھائیں اور نائی کو بطور صدقہ دینا بہتر ہونے میں کلام نہیں کہ صدقہ مطلق افضل ہے خواہ نائی کو دے خواہ کسی اور فقیر مسلم کو دے اور خود بھی کھا سکتے ہیں۔ یونہی ران کو خود بھی استعمال کر سکتا ہے اگر چہ دائی کو دینا بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بکرے کے ذابح کو اس کی اجرت دیں ضرور، مگر اس گوشت سے نہ دیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) جملہ اقارب کو کھانا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله شب ۱۵ جمادی الاولی ۱۴۰۷ھ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی