مسائل شرعیہ دریافت کرنے کی فضیلت اور فتویٰ کے اظہار میں تاخیر
مسائل شرعیه دریافت کرنا اہم طاعت اور افضل عبادت ہے! علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسائل میں کیا فرماتے ہیں: (۱) اگر فتویٰ لیا جائے اور ایک دو سال تک جھگڑے فساد کی وجہ سے نہ ظاہر کیا جائے، جب جھگڑے کی امید نہ ہو تب ظاہر کیا جائے تو کیا حکم ہے ؟ (۲) زید کا کہنا ہے کہ رسول اللہ لی لی لی لیلی کے زمانہ سے آج تک تمام بزرگان دین فتویٰ لیتے رہے ہیں اور فتوی دیتے رہے ہیں۔ فتویٰ لینا دینا بہت بڑا ثواب ہے جب کوئی نیک نیت سے فتویٰ لینے جاتا ہے جب تک واپس آتا ہے تو وہ ٹائم اس کا عبادت میں لکھا جاتا ہے۔ کیا یہ صحیح ہے ؟ (۳) اگر فتویٰ ظاہر نہ کیا جائے، فتویٰ کا حکم عام طریقہ سے بتا دیا جائے کہ شریعت کا یہ حکم ہے تو اس
(1) مضائقہ نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم المستفتی: مولانا شمشاد احمد ، موضع پدار تھ پور ضلع و تحصیل بریلی (۲) مسائل شرعیہ سیکھنا اہم طاعت و افضل عبادت ہے اور اس میں جس قدر وقت صرف ہواس تمام وقت میں اس کے لئے نیکی لکھی جائے گی۔ واللہ تعالی اعلم (۳) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله