امام سے عداوت اور مسجد کی جماعت و چندہ سے دوری کا مسئلہ
(۴) ایک شخص امام سے بڑائی رکھتا ہے اور نماز کو مسجد میں نہیں آتا اور نہ کوئی چندہ مسجد کا اور امام کا دیتا ہے ، چند لوگوں نے کہا کہ ان کا راضی نامہ کرا دیں اور آپس میں کھانا پینا کرادیں تو اس نے جواب دیا کہ میں راضی نامہ کے لئے تیار نہیں ہوں اور سب لوگوں کے لئے اور امام کے لئے بڑا لفظ کہا کہ یہ لوگ ( ناجائز لفظ ) اور کہا کہ میرا یہ ۔۔۔۔ کھانا کھالیں۔ اس کے لئے کیا حکم شرع نافذ ہوتا ہے ؟ جواب عنایت فرمائیں۔
در مختار میں ہے: لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة. ) محض اس وجہ سے زید پر اعتراض درست نہیں ہے ۔ ہاں زید پر حتی الامکان اپنی بیوی کو بُرائی سے روکنا فرض ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) صلاة بعد اذان جائز و مستحسن ہے اور معمولات اہل سنت سے ہے جو صدیوں سے بلانکیر رائج ہے۔ در مختار میں ہے: التسليم بعد الاذان حدث في ربيع الآخر سنة ثمان مأة واحدى وثمانين في سبع عشاء وليلة اثنين بعد عشرين فى الكل الا المغرب ثم فيها مرتين وهو بدعة حسنة . اسے وہابیہ کا طریقہ بتاناغلط ہے، ہاں اسے رو کناضر ور وہابیہ کا طریقہ ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴،۳) تارک نماز و جماعت اور بے وجہ شرعی لڑنے والا کدورت رکھنے والا اور گالی بکنے والا سخت فاسق ہے جس کے متعلق شرعا ثابت ہو کہ ان امور کا مرتکب ہے وہ ستحق قطع تعلق ہے ، اس سے ربط و ضبط نہ رکھیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ