شرعی گواہان سے تین طلاق ثابت ہو جاتی ہیں!
سوال
زید اپنی ماں سے کہتا ہے ، کیا اماں طلاق دے دوں ؟ اگر تمھارے من میں ہے تو میں طلاق دیتا ہوں۔ زید کا بیان یہیں تک ہے اور ہندہ سے پوچھا گیا تو بتاتی ہے میں طلاق نہیں سنی ہوں۔ اس پر دو گواہوں کا بیان ہے ، ایک زید کی ماں ، دوم ان کی بچی ، انہوں نے بیان دیے کہ زید نے طلاق کے الفاظ بولے ہیں بعد میں، اماں میں طلاق دیتا ہوں جاؤ طلاق طلاق طلاق۔ یہ گواہوں کا بیان ہے۔ یہ واقعہ بھی کافی دنوں کا ہے، پنچایت کے ذریعہ یہ ہو رہا ہے۔ خلاصہ تحریر کریں، عین نوازش ہوگی۔ محمد یوسف لکھیم پور کھیری
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: گواہان اگر شرعی ہیں تو تین طلاقیں ثابت ہو گئیں ورنہ نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۸؍ ذیقعده ۱۴۰۱ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۱ · صفحہ ۱۴۹
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
نابالغ لڑکی کا بغیر والد کی اجازت کے نکاح اور اس کی شرعی حیثیت
باب: تکملہ
زانیہ کے نکاح کی شرعی حیثیت کا بیان
باب: تکملہ
مسجد کے باہر غسل خانہ میں پاخانہ بنوانے اور متولی کی ممانعت کا شرعی حکم
باب: تکملہ
امام سے عداوت اور مسجد کی جماعت و چندہ سے دوری کا مسئلہ
باب: تکملہ
بیع مضاربت کے شرائط، نفع و نقصان کی تقسیم اور مالِ حرام کی واپسی سے متعلق سوالات
باب: تکملہ