مسجد کے باہر غسل خانہ میں پاخانہ بنوانے اور متولی کی ممانعت کا شرعی حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: مسجد کے امام صاحب کو پاخانے کی سخت تکلیف ہوتی ہے لہذا سوچا یہ ہے کہ مسجد کے باہر فنسل خانہ ہے اس میں پاخانہ بنوا دیا جائے لیکن متولی مسجد اجازت نہیں دیتے۔ لہذا از روئے شرع شریف مطلع فرما یا جاوے کہ متولی کا یہ کرنا درست ہے یا نہیں ؟ المستفتی: ولایت احمد ، گلی وزیر علی، بریلی شریف
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: مسجد کے باہر پاخانہ بنایا جاسکتا ہے مگر غسل خانہ میں نہ بنائیں جبکہ جگہ میں وسعت ہو، اس میں متولی کی ممانعت بے وجہ شرعی ہو تو بے اثر ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ اار ذیقعده ۱۴۰۱ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۱ · صفحہ ۱۴۶
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بیع مضاربت کے شرائط، نفع و نقصان کی تقسیم اور مالِ حرام کی واپسی سے متعلق سوالات
باب: تکملہ
نابالغ لڑکی کا بغیر والد کی اجازت کے نکاح اور اس کی شرعی حیثیت
باب: تکملہ
ٹیپو سلطان، معرکہ کربلا کی معلومات اور دو گاؤں کی صدارت سے متعلق سوالات
باب: تکملہ
تشہد میں رفع سبابہ کا طریقہ، کافرہ کی نماز جنازہ اور مودودی کی غائبانہ نماز جنازہ کے شرعی احکام
باب: تکملہ
شرعی گواہان سے تین طلاق ثابت ہو جاتی ہیں!
باب: تکملہ