نابالغ لڑکی کا بغیر والد کی اجازت کے نکاح اور اس کی شرعی حیثیت
اس مسئلہ کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے کہ : ایک عورت بغیر طلاق کے اپنی چھوٹی لڑکی کو لے کر اپنے ہاں چلی جاتی ہے، وہیں سے اس عورت کا نکاح ہوتا ہے ، جو لڑ کی ساتھ گئی تھی اس کا نکاح بغیر باپ کی اجازت سے ہوتا ہے کمسنی میں ، پھر رخصتی کراکر سسرال جاتی ہے۔ مگر ہر وقت پریشان رہتی ہے ، جب لڑکی بالغ ہو جاتی تو اپنے والد اول کے ہاں چلی جاتی ہے اور وہیں سے دوسرے شخص کے ہاں نکاح ہوتا ہے۔ کیا یہ نکاح صحیح ہے یا نہیں ؟ خلاصہ جواب سے مطلع کریں۔ محمد عباس، لکھیم پور
الجواب: یہ نکاح اس لڑکی کے والد کی اجازت پر موقوف ہوا، اس نے اگر قول یا فعل سے اسے جائز کر دیا تو صحیح و نافذ ہو گیا اور اگر اس نے رد کر دیا تو رد ہو گیا اور اگر موقوف کیا تو تابلوغ ہندہ موقوف رہا پھر ہندہ نے بعد بلوغ اگر فور ار د کر دیا تور د ہو گیا اور دوسرا نکاح صحیح ہوا۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۱۸ ذیقعده ۱۴۰۱ھ