بیع مضاربت کے شرائط، نفع و نقصان کی تقسیم اور مالِ حرام کی واپسی سے متعلق سوالات
(1) بیع مضاربت کے شرائط کیا ہیں اور روپیہ دینے والے اور لینے والے کے در میان کن کن باتوں کا طے ہونا ضروری ہے جو عقد مضاربت کے صحیح ہونے کے لئے کافی ہوں، اس طور پر ظاہر فرمائیں کہ مزید اضافہ کی حاجت نہ ہو۔ (۲) زید بکر کو پانچ ہزار روپے بطور مضاربت دے اور کہے کہ نفع میں ہمارا آدھا حصہ ہو گا اور ہم تمھارے ساتھ نفع اور نقصان میں برابر کے شریک رہیں گے ، صرف اتنا آپس میں طے کر لینا عقد کی صحت کے لئے کافی ہے یا نہیں ؟ (۳) کیا عقد مضاربت میں روپیہ دینے والے اور روپیہ لینے والے کے درمیان یہ بھی طے ہونا ضروری ہے کہ روپیہ دینے والا روپیہ لینے والے کو کہے کہ اصل رقم میں جو خسارہ ہو گا وہ ہمارا ہو گا؟ یا بغیر اس بات کو ظاہر کیے ہوئے صرف آپس میں عقد کے تمام ضروری باتوں کا طے کر لینا کافی ہو گا ؟ اگر روپیہ دینے والا اصل رقم کے خسارہ کے بارے میں کوئی بات ظاہر نہ کرے تو مضاربت صحیح ہوگی یا نہیں ؟ (۴) جور تم حرام طریقے سے حاصل ہو تو اس رقم کو صاحب رقم کو واپس کرنا ضروری ہے اگر اس رقم میں سے کچھ رقم خرچ ہو چکی تو باقی ماندہ واپس کیا جائے گا لیکن خرچ شدہ رقم کے متعلق کیا ہوگا؟ تمام مسائل کا جواب مکمل اور مفصل عنایت فرما کر مشکور فرمائیں۔ المستفتی: شفیق احمد ٹمبر مرچنٹ ، میسور
الجواب: (1) شرائط مضاربت یہ ہیں : [1] رأس المال از قبیل شمن ہو اور وہ ثمن ایسی ہو جس کا چلن ہو،سامان کے قبیل سے نہ ہو۔ [۲] رأس المال معلوم المقدار ہو خواہ یوں کہ مقدار بیان کر دی جائے، خواہ یوں کہ اس کی طرف اشارہ کر دیا جائے۔ [۳] رأس المال عین (نقد) ہو، دین نہ ہو۔ [۴] رأس المال مضارب کو دے دیا جائے یعنی وہ اس پر پوری طرح قابض ہو جائے۔ [۵] نفع دونوں کے درمیان شائع ہو، مثلاً نصف نصف یا ایک تہائی یا دو تہائی یا ایک چوتھائی اور یوں نہ کہا جائے کہ مثلاً ۱۰۰؍ روپے لوں گا۔ [۶] ہر ایک کا حصہ معلوم ہو، لہذا اگر تردید کے ساتھ یوں کہا کہ تم کو آدھایا تہائی نفع دیا جائے گا تو مضاربت فاسد ہو گئی۔ [۷] مضارب کے لئے نفع دینا شرط ہو۔ اگر راس المال میں سے کچھ دینا شرط کیا گیا یا رأس المال اور نفع دونوں میں سے دینا شرط کیا گیا تو مضاربت فاسد۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) صورت مسئولہ میں مضاربت صحیح اور یہ شرط فاسد کہ مضاربت میں نقصان رب المال کا ہوتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) مضاربت صحیح ہوگئی اور نقصان رب المال پر پڑے گا بحکم مضاربت فان المعروف کالمشروط، كذا فی الدر المختار ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) عقد فاسد کے ذریعہ وہ رقم ملی تو اس میں اختیار ہے، خواہ صاحب رقم کو واپس دے خواہ فقرائے مسلمین پر تصدق کر دے اور اگر کسی اور حرام ذریعہ سے ملی تو مالک کو واپس کرنا ضرور اور جو خرچ کر دے بہر صورت اس کا تاوان لازم اور عقد فاسد کا وہ حکم جب ہے جبکہ مسلم سے وہ معاملت فاسدہ کی ہو ورنہ غیر مسلم سے جو کچھ ملے وہ خالص مباح ہے جبکہ بے عذر شرعی اس کی رضا سے ملا ہو۔ ہدایہ میں ہے: لان مالهم مباح في دارهم فباى طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم يكن فيه غدر . واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) الهداية، كتاب البيوع، باب الربا ، ج۲، ص ۷۰، مجلس بركات اار ذیقعده ۱۴۰۱ھ نزیل میٹر تاسٹی، راجستھان