بے جبر و اکراہ طلاق لکھنے پر طلاق واقع ہو جاتی ہے !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: غلام جیلانی ولد عبد المجید ساکن پیسا نگن کا نکاح جمیلہ بنت محمد شفیع ساکن پیسا نگن والوں سے ہوا، لڑکی اس وقت میں نابالغ تھی بعد میں آپس میں جھگڑے ہونے سے لڑکی سسرال ایک قت بھی نہیں بھیجی گئی۔ آخر کار لڑکے والوں نے دوسری جگہ بھیم ضلع اودے پور پیغام دے کر لڑکا غلام جیلانی کے نکاح کا دوسری جگہ انتظام کیا۔ اس وقت بھیم والوں نے یہ اعتراض کیا کہ جب تک تم اپنی انگلی بیوی جمیلہ کا فیصلہ نہیں کر دیتے جب تک ہم نکاح نہیں دیں گے ۔ اس پر غلام جیلانی نے یہ طلاقنامہ لکھ کر دیا جس کی تفصیل حسب ذیل ہے: تاریخ ۷۵-۵-۵ میں کہ غلام جیلانی ولد عبد المجید بیوپاری گوت ناگواہ گاؤں پیسانگن ضلع اجمیر راجستھان کا ہوں جو کہ میں اقرار کرتاہوں کہ محمد شفیع کی لڑکی فاطمہ ساکن بھیم ضلع اودے پور راجستھان کی ہے ، اس کو میں اپنے نکاح میں لیتا ہوں تاکہ اس کو تاحین حیات کسی قسم کی تکلیف نہیں دونگا، شرعا و قانوناً اس کے حق و حقوق میں ادا کر تار ہوں گا، اگر کسی قسم کی دُکھ و تکلیف ہو دے تو میں ذمہ دار ہوں، فاطمہ کا حق ہے کہ میں کسی قسم کی دُکھ تکلیف دوں تو قانونی کارروائی عمل میں لاوے اور جو کہ میری اگلی عورت نکاح میں ہے اس کو میں نہیں لاؤں گا اور اس کو میں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، فیصلہ کر لیا ہے، انگلی عورت اگر میں لاؤں تو میں گنہ گار ہوں، یہ رسید میری راضی خوشی بغیر نشہ پتہ لکھدی سو صیح ہے، اس میں بولوں بدلوں تو راج در بار پیچ پنچایتی میں جھوٹا ہوں گا ، یہ رسید لکھ دی سو صیح ہے سند رہے وقت ضرورت پر کام آوے۔ بقلم مانگی لال کھٹیک بھیم“ دستخط ، غلام جیلانی
گواه شکور احمدمحمد بھیم لوہار، گواہ: لون سنگھ ، گواہ اسمعیل، گوال: محمد جی ٹاڈ گڈھ بیو پاری، عبدالمجید حسن بخش پسانگن یہ نقل ہمارے سامنے اتاری گئی۔ غلام نبی خاں شوز گر بھیم، ۷۸-۱۲-۳۱ تصدیق کرتا ہوں کہ یہ نقل میں نے اصلی طلاق نامہ کی نقل کی ہے ۔ فقیر محمد نیز دو گواہوں نے اور جو بیانات دیے جو نکاح کے وقت موجود تھے ان کے بیانات بھی حسب ذیل ہیں جبکہ یہ مندرجہ بالا تحریر سنائی گئی۔ (نمبرا) میکہ محمد حسن ولد عبد الرحمن جی بعمر ۴۵/ سال کے نیمان ضلع پالی راجستھان اور محمد یونس ولد عبد الستار بعمر ۳۲ سال سکہ نیمان ضلع پالی راجستھان نے مل کر جناب جمال الدین ولد نور محمد صاحب مقام کو شال پور اضلع پالی راجستھان سے دریافت کیا کہ بھیم میں جب تمھاری سنگی سالی کا نکاح محمد جیلانی ولد عبد المجید ناگوراه ساکن پسانگن والے سے نکاح ہوا جب مذکورہ بالا ( غلام جیلانی ) کی عورت کے واسطے جو پسانگن میں ہے اس کا کیا خلاصہ کیا تو جمال الدین نے ہمارے سامنے اقرار کیا کہ طلاق نامہ لکھنے کے بعد تمام باتوں کا خلاصہ کر کے نکاح دی ہے اب وہ عورت جمیلہ بے باک ہے، لفظ ہمارے سامنے کلمے کی روح سے کہی ، ہم دونوں آدمی شہادت دے کر دستخط کرتے ہیں۔ محمد حسن ولد عبد الرحیم جی نیماج انگوٹھانشان محمد یونس ولد عبد الستار نیماج گواه: کالو ولد غلام حسن نیماج محمد حسن ولد عبد الرحمن جی (نمبر ۲) میکہ محمد ولد امیر الدین ساکن پسانگن ضلع اجمیر میں حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ محمد جیلانی ولد عبد المجید ساکن پسانگن ضلع اجمیر جو کہ بھیم ضلع اودے پور میں شادی کرنے کے لئے گیا تھا اس وقت میں موجود تھا جب وہاں پر بھیم والوں نے یہ اعتراض کیا کہ جب تک دولہا محمد جیلانی اپنی عورت بنام جمیلہ بانوبنت محمد شفیع کٹاریہ ساکن پسانگن ضلع اجمیر کو طلاق نہیں دے دے تب تک یہ نکاح نہیں ہو سکتا۔ لہذا محمد جیلانی نے میرے سامنے رو برو اسی وقت طلاق دی تھی، میں خدا کو حاضر و ناظر سمجھ کر یہ تحریر بستی والوں کو بطور ثبوت دیتا ہوں، یہ تحریر میں کسی قسم کے دباؤ میں یا لالچ میں آکر نہیں لکھ رہا ہوں، یہ تحریر میں ہوش و حواس آج بتاریخ یکم دسمبر ۱۹۷۸ء کو بمقام پسانگن ضلع اجمیر میں لکھ کر دے رہا ہوں ۔ یہ تحریر کمیزه گویندگڈھ ، کھیڑہ پسانگمن، کھیڑہ بمبئی، کیڑہ بیکانیر کے نمائندوں کے روبرو لکھی گئی ہے ریکی گویندگدھ، کھیر کے مادوں کے روبر لکھی گئ ہے تاکہ سندر ہے۔ تاریخ تیم دسمبر ۱۹۷۸ء دستخط محمد ولد امیر الدین بقلم چراغ الحق پسانگن انگوٹھا نشان عبد الستار، دستخط کالو، دستخط فقیر محمد ولد غلام حسن گوبند گڑھ ، دستخط نذیر محمد ولد اللہ رکھا، گوبند گڑھ ، دستخط عبد الرشید کٹاریہ، دستخط صادق حسن ولد محمد حسین گوبند گڑھ ، دستخط فتح محمد ولد قادر بخش گوبند گڑھ، انگوٹھانشان حاجی محمد یاسین بمبئی، دستخط نصیر محمد عبدالغنی، دستخط ابراہیم ناگوره پسانگن ، دستخط محمد یونس قریشی۔ جبکہ جمیلہ بند محمد شفیع ساکن پسانگن والوں کو یہ معلوم ہوا کہ غلام جیلانی وہیں عبدالمجید نے طلاق نامہ لکھ کر بھیم والوں کو دے دیا ہے تو محمد شفیع نے غلام جیلانی نے عبدالمجید سے کہا کہ وہ طلاق نامہ ہم کو دے دو تو اس پر غلام جیلانی نے عبد المجید سے یہ کہا کہ آپ ہماری رقم ۱۳۰۰ / روپیہ ہم کو دے دو، آپ کو طلاق نامہ دے دیں گے تو اس پر ۱۳۰۰ روپیہ کی رقم لے کر گئے تو غلام جیلانی عبدالمجید کے پاس گئے تو وہ مکر گئے ، اب ہم تین ہزار روپیہ لیں گے، اتنی رقم ہم نے (محمد شفیع) نہیں دی جب اس نے طلاق نامہ نہیں دیا۔ بعد میں جب ہم نے کوشش کر کے بھیم والوں سے طلاق نامہ حاصل کرنا چاہالیکن وہ لوگ اصلی