غیر انبیاء کے لیے لفظ صلاۃ و سلام کا استعمال اور قبر میں حضور ﷺ کی تشریف آوری
چند سوالات تشفی خاطر کی غرض سے حضرت کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔ مخلصانہ گزارش ہے کہ اپنی تصدیق کے ساتھ جواب عطا فرمائیں۔ (1) تنہا لفظ ”صلوۃ “ اور تنہا لفظ ”سلام “ انبیاء و ملائکہ علیہم الصلوۃ والتسلیمات کے علاوہ پر بولنا جائز ہے یا نہیں ؟ مثلاً ”سلام “ ہو حضرت غوث پاک رضی اللہ عنہ پر ، السلام علی عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔ اس طرح کہنا جائز ہے یا نہیں ؟ (۲) اپنی جماعت کے ایک جید عالم نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ رسول اللہ علی اپنی قبر انور کو چیر کر جسم اقدس کے ساتھ نکلتے ہیں اور منکر و نکیر کے سوال کے وقت ہر مومن کی قبر میں اپنے جسم کے ساتھ تشریف لاتے ہیں ، نیز محافل میلاد پاک میں شرکت فرماتے ہیں۔ دلائل کی روشنی میں اس کی تصدیق یا تردید فرمائیں۔ والسلام محمد نعمان قادری، پرنسپل الجامعۃ الاسلامیہ، قصبہ روناہی ضلع فیض آباد (یوپی)
الجواب: (1) لفظ ”صلاۃ انبیاء و ملائکہ علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے ، غیر نبی پر ”صلاة “ بھیجنا جائز نہیں مگر یہ کہ نبی کی تبعیت میں بھیجیں تو جائز ہے ، در مختار وغیرہ اسفار میں ایسا ہی ہے ، اور ”سلام کا بھی یہی حکم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) حضور علیہ السلام کی شبیہ مبارک جلوہ افروز ہوتی ہے اور ”ھذا الرجل “ سے یہی ظاہر ہے کہ ھذا مشار الیہ قریب محسوس کے لئے ہے اور بعض علماء نے موجود فی الذہن کو مشار الیہ بتایا اور جسم انور کے ساتھ حاضر ہونا بھی ممکن اگر چہ فقیر کی نظر سے نہ گزرا۔ امکان ہی کا قول محافل میلاد کے لئے کیا جاسکتا ہے اور بالفعل آنا محتاج دلیل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۸ / ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ صبح الجواب۔ اشعۃ اللمعات جلد اول میں شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ نے حدیث سوال کے تحت فرمایا ہے : ” یا باحضار ذات شریف وے در عیاں به این طریق در قبر مثالی از حضرت وے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حاضر می ساخته باشند تا بمشاہدۂ جمال جان افزائ او عقدہ اشکال که در کار افتاده کشاده شود و ظلمت فراق بنور لقائے دلکشائے اور روشن گردد، در این جابشار نیست مر مشتاقان غمزدہ را که اگر بر امیدیں شادی جان دهند و زندہ در گور روند جائے آن دارد ۔ (اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ باب اثبات عذاب القبر ج ۱، ص ۱۱۵، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر) امام قسطلانی نے شرح بخاری میں فرمایا ہے : ”فقیل يكشف للمیت حتی میری النبی علیہ السلام وھی بشری عظیمة للمومن ان صح ذلک ارشاد الساری، کتاب الجنائز ج ۳، ص ۲۷۶ / باب ۸۷، دار الکتب العلمیہ بیروت۔ کہا گیا ہے کہ میت سے حجاب اٹھا دیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نبی کریم یا ای وی کو دیکھتا ہے اور مومن کے لئے یہ بڑی ہی خوشخبری ہے ، اگر ٹھیک رہے ، اگر یہ روایت صحت کو پہنچے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی