بذریعہ خط تین طلاق دینے کا حکم اور مہر کی ادائیگی کا مسئلہ
۸/ ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ بذریعہ خط تینوں طلاقیں دیں، طلاق واقع ہوئیں یا نہیں ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کی بیوی ہندہ جو آج تقریبا دس گیارہ سال سے زید کی زوجیت میں آئی جس کے دو بچے بھی ہیں مگر ہندہ کبھی بھی اپنے شوہر زید کے حکم کے مطابق زندگی گزارنے پر آمادہ نہیں رہی جس کی وجہ یہ ہے کہ ہندہ کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ زید میرے میکے میں بودوباش اختیار کرلے۔ زید اس بات کو گوارا کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ آج تقریبا پانچ سال کا عرصہ گزر رہا ہے کہ ہندہ اپنے میکے میں ہے اور زید و ہندہ دونوں میں دینی و دنیاوی کسی طرح کے معاملات اس اثناء میں واقع نہیں ہوئے اور اس پانچ برس کے عرصے میں کئی خطوط زید نے ہندہ کو لکھ کر اپنے یہاں بلایا، مگر ہندہ نہیں آئی۔ تب زید نے بذریعہ خط ہندہ کو تینوں طلاق دے دیا۔ اب صورت مسئولہ میں ہندہ کو طلاق ہوئی کہ نہیں ؟ اور ہندہ دین مہر کی حقدار ہوگی یا نہیں ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر مشکور فرمائیں۔ بینوا توجروا المستفتی: محمد علاؤ الدین خاں، مدرسه حنفیه، غریب نواز، پوسٹ سوندھی، بکار اسٹیل سٹی، دھنباد(بہار)
الجواب: تینوں طلاقیں واقع ہو کر بیوی زید کے نکاح سے فوراً باہر اور ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے حلال نہ ہوگی اور مہر بذمہ زید لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۸/ ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ