بے ثبوت شرعی کسی مسلم کی طرف گناہ کی نسبت حرام ہے !
علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسائل میں کیا فرماتے ہیں: (1) زید کی بیوی بے پردہ دیگر مواضعات وغیرہ میں آتی جاتی ہے اور شوہر کا احترام بھی نہیں کرتی، وقتا فوقتا ہے جا کہتی سنتی تھی، یہاں تک کہ زید کا دھان اور غلہ وضرورت کا سامان بانٹ کر الگ کر دیا۔ بڑا لڑکا اور لڑکے کی بیوی زید کے ساتھ رہنے پر راضی ہوئے اور زید کی بیوی کو الگ کر دیا اور چودہ سالہ ایک لڑکا ماں کے ساتھ کر دیا۔ یہ واقعہ ۲۹ / شوال کا ہے۔ اب زید کی بیوی نے تین ذیقعدہ کو زید پر الزام لگایا کہ زید نے لڑکے کی بیوی سے زنا کیا ہے ، حتی کہ ہندو مسلمان اکٹھا کیے ، لڑکے کی بیوی کو بلایا، اس نے کہا کہ ستائیسویں شب تھی رمضان شریف کی ، مسجد میں میلاد تھا اور میرا شوہر اٹنگا اور ساس پوٹہ گئے تھے ، چھوٹا لڑکا گواہ ہے ، اس نے بیان کی کہ ابا ۲۸ / رمضان رات بھابھی سے کچھ پوچھ رہے تھے ، یہ نہیں معلوم کیا پوچھا اور کیا کہا لڑکے کی بیوی نے اپنے تین بھائیوں کی قسم کھائی اور اس کے شوہر نے بیوی کے بیان کی تائید کی اور زید کی بیوی نے زید کو حلفیہ زانی کہا، اس پر پنچوں نے زید کے لڑکے کی بیوی سے زید کا منہ کالا کرایا اور دو سور و پیہ جرمانہ لیے ، زید اپنی بیوی سے ناراض ہوا اور کہا کہ مجھے تو مجھے رکھنا ہی نہیں ہے، بکرنے کہا کتنے بار یہ کہ دیا، زید نے تین بار پھر کہ دیا کہ رکھنا نہیں۔ طلاق کا حکم کر کے پنچوں نے زید کے پندرہ سولہ سوروپے کے بیل مہر میں دینے کو کہا تو زید نے انکار کیا۔ عمرو نے ماں کی گالی دی (استغفر اللہ تعالیٰ) اور زبر دستی بیل دلائے جبکہ مہر صرف ۶۲ / روپیہ دس آنا ہے اور بستی سے حقہ پانی بند کر دیا۔ اس نے معافی مانگی مگر حقہ پانی نہ کھولا اور حکم لاگو کر دیا کہ کوئی اسے اپنے پاس نہ آنے دے اور نہ اس کے قریب آئے۔ لہذ از بر دستی سب کے سامنے شرمندہ کیا گیا۔ برداشت کیا، بحمد اللہ تعالیٰ باہر کے یعنی دوسرے موضع کے لوگ گئے تو یہ سوال لکھا پایا جو ساتھ میں تھی ہے، جمال الدین دمنے خال و قمر الدین واحمد حسین نے لکھا، لوگوں نے کہا کہ پورا پور اسیح بیان لکھو ، صاف انکار کر دیا اور کہا کہ خود لکھو ہم نہیں لکھیں گے اور زید کا جملہ سامان و مکان تک لڑکوں کو بانٹ دیا۔
الجواب: نذیر احمد ، موضع بڑھدار ضلع پیلی بھیت ، ۸/ ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ (۱) بر تقدیر صدق سوال حکم یہ ہے کہ ان لوگوں کے بیانوں سے زید پر زنا ثابت نہیں ہو گا، البتہ پسر زید جبکہ اپنی بیوی سے زید کے زنا کے الزام کی تصدیق کرتا ہے تو اس پر اس کی بیوی حرام ہوگئی اور متارکہ یعنی چھوڑ نا فرض ہو گیا۔ در مختار میں ہے: شرى امة ابيه لم تحل له ان علم انه وطئها . (1) رد المحتار میں ہے: قوله (ان علم انه وطئها ) فان علم عدم الوطئ او شك تحل اهح والمراد بالعلم ما يشمل غلبة الظن الخ . ) نیز در مختار میں ہے: تزوج بكرا فوجدهـا ثـيـبا وقالت ابوك فضنى ان صدقها بانت بلا مهر والا لا شمني. (4) اور بے ثبوت شرعی کسی مسلم کی طرف گناہ کی نسبت حرام بد کام بدانجام ہے اور منہ کالا کرنا کرانا مطلقا حرام کہ مثلہ ہے اور وہ خلاف شرع اور مالی جرمانہ ظلم بالائے ظلم ، تو بہ لازم اور رقم زید کو واپس کرنا ضرور اور طلاق کا حکم محض جہالت اور مہر میں بیل دلوانا ظلم اور بائیکاٹ زید کا اور اس کا مال بانٹنا حرام۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ان صاحب کا خیال غلط ہے جس سے ان پر تو بہ لازم ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) تہبند کا کچھ حصہ گھر س کر ہی باندھا جاتا ہے ، اگر اس قدر گھر سا تو کچھ نہیں اور زائد گھر سا توکراہت ہوئی اور اعادہ ضرور۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ ۸/ ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ