عورت کا مہر اس کے انتقال کے بعد کس کو دیا جائے؟
۶ ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ عورت کا مہر اس کے انتقال کے بعد کس کو دیا جائے؟ بخدمت جناب رفیع الدرجات حضرت نائب نبی دامت برکاتہم بعد قدمبوسی و سلام مسنون عرض عاجزانہ یہ ہے کہ درج ذیل شرعی حکم سے نوازیں۔ زید کی بیوی ہندو چھ اولاد جن میں پانچ لڑکے اور ایک لڑکی ہے، چھوڑ کر انتقال کر گئی ہے۔ زید اپنی موصوفہ مذکورہ بیوی کا مہر مقررہ ایک سو پچیس روپے زید پر واجب الادارہ گئے ہیں۔ اب شرعی مہر کس طرح ادا کرنا ہے کہ صاحب مہر تو گزر گئی ہے۔ شرعی حکم سے نوازیں تاکہ مسئلہ قوم کو معلوم ہو جائے۔
ارسال خدمت بابرکت کر رہے ہیں۔ الجواب: بمعرفت قبلہ حضرت مبلغ اعظم قاضی محمد اسماعیل صاحب رضوی مقبولی دامت برکاتہم العالی کے مہر اس کے ورثہ کو دیا جائے اور شوہر بھی وارث ہے اور اس کا فریضہ شرعیہ کل متروکہ ہندہ کا ایک چوتھائی ہے ۔ وھو تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی ۷ / ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ