صریح لفظ سے تین بار طلاق دی، تینوں واقع ہو گئیں!
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ:
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب:المستفتی: چھٹن چودھری، ساکن کھولکڑی ضلع بدایوں، تحصیل داتا گنج بر تقدیر صدق سوال تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور گواہان شرعی ہیں تو طلاقیں ثابت بھی ہو گئیں اور عورت اس شخص کے نکاح سے فورد با ہر ہوگئی اور اس پر ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور سوال فرضی نام سے کریں کہ یہی مستحب ہے۔ (۱) زواجر میں ہے: ”و الافضل ان يبهمه - الخ ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۶/ ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۱ · صفحہ ۱۰۶–۱۰۷
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
قبر چومنے کے متعلق شرعی حکم
باب: تکملہ
مسجد کی رقم سے کنواں حدود مسجد میں ہی بنایا جائے!
باب: تکملہ
کئی نکاحوں اور طلاقوں کے بعد عورت کے بیان کی تصدیق اور دوبارہ نکاح کا حکم
باب: تکملہ
عورت کا مہر اس کے انتقال کے بعد کس کو دیا جائے؟
باب: تکملہ
رجعت، عدت کے مسائل اور نماز جنازہ کی تکبیر میں منہ اٹھانے کا حکم
باب: تکملہ