رجعت، عدت کے مسائل اور نماز جنازہ کی تکبیر میں منہ اٹھانے کا حکم
نشان انگوٹھا لے لیا گیا ہے۔ تین ماہ دس دن کے اندر رجعت کر سکتے ہیں ؟ جواب سے آگاہ کیجئے گا۔ گواه (۱) اخلاصی بیگم ۔(۲) افسری بیگم (۲) نماز جنازہ میں چار تکبیریں جو ہوتی ہیں ان میں منہ اٹھانا چاہئے یا نہیں ؟
الجواب: المستفتی: امتیاز بیگ، جہان آباد ضلع پیلی بھیت (1) حیض والی کی عدت تین حیض ہے، لہذا اگر حیض آتا ہے اور تین حیض ہو چکے تو عدت گزر گئی، اب رجعت نہیں کر سکتا۔ برضائے زن بہ مہر جدید نکاح کا اختیار ہے اور اگر واقعہ یہ ہے کہ ابھی تین حیض نہیں گزرے یوں کہ عورت ممتدة الطہر ہے تو عدت باقی اور رجعت کا اختیار ہے جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو نمازیوں کے سامنے کہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی، اسے اپنے نکاح میں لیا اور یہ حکم جب ہے جبکہ پہلے سے ایک طلاق نہ دے چکا ہو ورنہ رجعت کا اختیار نہیں اور ساتھ رہنا چاہیں تو مردوزن کو بے حلالہ چارہ کار نہیں۔ پھر اگر عورت کو بوجہ صغرسنی یا کبرسنی حیض نہیں آتا تو اس کی عدت تین ماہ ہے اور اس صورت میں عدت پوری ہو گئی اور رجعت کا وقت گزر گیا اور حاملہ ہے تو عدت باقی اور رجعت کا اختیار ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ ۲/ ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ