قبر چومنے کے متعلق شرعی حکم
(۳) قبر کا چومنا کیسا ہے ؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جائز ہے اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حرام۔ مندرجہ بالا مسائل کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں دیں۔ عین نوازش ہوگی !فقط، والسلام عبد الرحیم خاں قادری، بمبئی۔ ۴۰۰۰۴۳
رد المحتار میں اس کے تحت ہے: و يكره له الانتظار قائما ولكن يقعد ثم يقوم اذا بلغ المؤذن حى على الفلاح. (1) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) دیوبندیوں کے عقائد کفریہ ہیں اور وہ کافر، بے دین ہیں اور ان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جاننے والا سنی صحیح العقیدہ نہیں بلکہ انہی کی طرح کا فر ہے اور ان سے میل حرام اور سنی کا عقد دیو بندی عورت سے ناجائز و باطل محض ہے کہ دیو بندی مرندہ و مرتد کا نکاح عالم میں کسی سے درست نہیں ۔ در مختار میں ہے: لا يصلح ان ينكح مرتد او مرتدة احدا من الناس مطلقا. (۲) اور ایسی محفل میں شرکت دانستہ گناہ ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) حرام نہیں ، ہاں ادب یہی ہے کہ نہ چوما جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۳ ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ