مسجد کی رقم سے کنواں حدود مسجد میں ہی بنایا جائے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: عرصہ دراز سے یہ جھگڑا ہے کہ مسجد کا پیسہ تھا اور اس پیسہ کا کنواں مسجد سے علیحدہ بنوادیا ہے اور اس کا بہانہ یہ کیا کہ پیسہ گورنمنٹ کا ہے اور جب ہم نے پیسہ طلب کیا تو کہنے لگے ، یہ مسجد کے پیسے سے بنا ہے۔ تو ہم نے اس پر یہ کہا کہ مسجد کا پیسہ کا کنواں اندر ہونا چاہئے تو ان نے جھگڑا کیا۔ ہم لوگ خاموش
ہو گئے۔ ان نے کنواں بنوا دیا اور ان نے کہا کہ ہم کو اپنے مطلب سے مطلب اور ان کے نجس برتن ڈالے جاتے ہیں اور کسی کا کہنا نہیں مانتے ہیں اور جھگڑا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے نمازی بھی بہت کم آتے ہیں اور عام طریقہ سے لوگ پانی بھرتے ہیں اور کوئی حفاظت نہیں اور کوئی رکاوٹ نہیں کیونکہ وہاں پر ہندو بہت رہتے ہیں اور ہم کو خوف ہے کہ باہر رہنے سے اچھوت لوگوں کا قبضہ ہو جائے اور ہمارا جھگڑا ہوتا رہتا ہے ۔ اسی جھگڑے کی وجہ سے تعمیر کی ہوئی ہے ، فقط ۔ الجواب: عبدالبشیر خاں، موضع پر یا ادھے بھان پور ضلع شاہجہانپور ، ڈاکخانہ اون کلاں فی الواقع اگر وہ رقم مسجد کی تھی تولازم تھا کہ وہ کنواں حدود مسجد میں بنایا جاتا۔ اب کہ کنواں باہر بنایا گیا اور اس پر اہل مسجد کو دسترس نہیں اور غیر مسلموں سے اسے محفوظ رکھنا متصور نہیں ہے تو اس پر جس نے یہ رقم مسجد کی خرچ کی ، اس رقم کا تاوان لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله