کئی نکاحوں اور طلاقوں کے بعد عورت کے بیان کی تصدیق اور دوبارہ نکاح کا حکم
زید کی شادی ہندہ سے ہوئی، کچھ دن بعد زید کا انتقال ہو گیا۔ پھر ہندہ کی شادی عمر و سے ہوئی، بعد کچھ دن کے عمرو نے ہندہ کو طلاق دے دی پھر ہندہ کی شادی بکر سے ہوئی جس سے ہندہ کے بطن سے ایک لڑکی پیدا ہوئی، بکر نے بھی ہندہ کو طلاق دے دی، طلاق دیے ہوئے قریب دو سال گزر گئے۔ پھر ہندہ کسی لڑکے کے پاس بغیر نکاح کے رہنے لگی، بعد میں لڑکے نے ہندہ کو 19 سوروپے میں بکری کرلی، جس لڑکے کے پاس بکری کی وہ لڑکا بھی بغیر نکاح کے رکھنے لگا، بعد میں اس لڑکے نے بھی نکال دیا۔ اب ہندہ ایک لڑکے کو چاہتی ہے اور وہ لڑکا بھی چاہتا ہے۔ لہذا اہندہ ہذا اور وہ لڑکا قاضی کے پاس پہنچتے ہیں تو قاضی نے دریافت کیا کہ تمھارا پہلے والا شوہر زندہ ہے یا مر گیا ؟ ہندہ نے ۴ گواہوں کے سامنے قرآن کی قسم کھائی مگر قاضی صاحب کہتے ہیں کہ مجھے کوئی اور گواہ چاہئے ، اگر کوئی گواہ نہیں ہے تو میں نکاح نہیں پڑھاؤں گا۔ لہذا اب لڑکی کہتی ہے کہ اگر میری شادی اس لڑکے سے نہیں ہوگی تو میں کسی غیر مسلم کے ساتھ شادی کرلوں گی۔ لہذا اب شریعت کا کیا حکم ہے ؟ جواب عنایت فرمائیں ، عین کرم ہو گا !فقط المرسل: محمد سعید خاں صاحب، امریا ضلع پیلی بھیت
الجواب: عورت کے بیان پر اگر دل جمتا ہے اور یہ باور ہوتا ہے کہ وہ کسی کی منکوحہ یا معتدہ نہیں ہے تو اس کا نکاح پڑھانے میں حرج نہیں ورنہ بے تحقیق حال ہر گز نکاح نہ پڑھایا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ثناء المصطفےا، واردحال محلہ سوداگران، بریلی شریف