پہلی بیوی کو طلاق دیے بغیر اور مہر ادا کیے بغیر دوسری شادی کرنے کا شرعی حکم اور نکاح خواں و حاضرین کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) ایک شخص نے ایک لڑکی سے شادی کی اور اس لڑکی کے ساتھ لڑکے نے ایک شب گزاری اور دوسرے دن لڑکی اپنے میکے کو چلی گئی اور لڑکی کے میکے چلے جانے کے بعد لڑکی کا شوہر اور اس کے والد نے لڑکی پر یہ الزام لگایا کہ لڑکی بدچلن ہے جس کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے اور اس کے چند روز کے بعد لڑکا اکیلا لڑکی کو لینے کے لئے گیا اور اپنے سسر سے کہا کہ آپ لڑکی کو آدھے گھنٹے میں رخصت کرو۔ لڑکی کے والد نے کہا اپنے داماد سے کہ آج آپ رُک جاؤ، لڑکی کو کل میں رخصت کر دوں گا۔ لڑکا نہ مانا اور وہ واپس چلا آیا۔ اور اس کے بعد لڑکی کو لینے نہیں گیا۔ اس شادی کو ہوئے پانچ ماہ کا عرصہ ہوا۔ اسی درمیان میں لڑکے کے والد پھر اپنے لڑکے کی شادی کرنے کے لئے دوسری جگہ دوسری لڑکی سے نکاح کرنے کے سلسلے میں بات چیت طے کی اور کرنے کے بعد دوسری سے شادی کر لی جبکہ پہلی عورت کا طلاق نہیں ہوا ہے اور نہ اس کا دین مہر ادا کیا گیا ہے اور نہ ہی پہلی بیوی کی رضامندی سے یہ شادی ہوئی۔ اصل بات یہ ہے کہ پہلی بیوی سے شوہر نے نکاح کے بارے میں کوئی اجازت نہیں لی اور دوسری لڑکی سے شادی کرلی۔ ایسی صورت میں دوسرا نکاح جائز ہے یا ناجائز؟ ہمیں قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی ! (۲) علاوہ اس کے جس نے نکاح پڑھایا اس کو اس بات کا علم تھا کہ پہلی بیوی کا طلاق نہیں ہوا ہے اور نہ ہی اس کا دین مہر ادا کیا گیا ہے اور یہ بھی علم تھا کہ پہلی بیوی دوسرے سے خوش نہیں ہے ، باراتی میں اور نکاح میں جو لوگ شریک تھے ان کو بھی اس بات کی خبر تھی کہ پہلی بیوی کی بغیر طلاق دیے وہ بغیر دین مہر ادا کیسے یہ نکاح ہو رہا ہے۔ ایسی صورت میں شریعت کی رو سے یہ نکاح جائز ہے یا ناجائز؟ علاوہ اس کے نکاح پڑھانے والے کا اور حاضرین کا جس کو اس بات کا علم تھا تو ایسی صورت میں شریعت کی رو سے ان لوگوں کا نکاح رہایا نہ رہا؟ ہمیں قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی ! فقط ، والسلام طالب دعاد کرم محمد شفیع احمد قریشی، صدر جامع مسجد رائے گڑھ ، ایم نی
(۲،۱) لڑکے نے جس لڑکی سے عقد کیا اگر وہ لڑکی اس کی پہلی بیوی کی حقیقی بہن یا حقیقی پھوپھی یا حقیقی خالہ یا کسی طرح اس کی محرم نہیں تو نکاح صحیح ہوا اور پڑھانے والے اور شرکائے مجلس پر کوئی الزام نہیں ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲/ ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف