مکہ معظمہ میں روپیہ کی کمی کی وجہ سے قربانی نہ کر سکنے کا حکم
جو روپیہ کی کمی کی وجہ سے مکہ معظمہ میں قربانی نہیں کر سکتا وہ کیا کرے؟ بحضور فیض گنجور جناب مفتی اعظم صاحب مد ظلہ العالی ! جناب عالی کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
الجواب: لمستفتی: رفیع اللہ ، محلہ نظم نگر، بریلی شریف وہ شخص اگر مفرد ہے یعنی اس نے صرف حج ہی کا احرام باندھا ہے تو یہ قربانی مستحب ہے تو فوت ہونے کی صورت میں اس پر مواخذہ نہیں اور اگر قارن یا متمتع ہے تو اس پر قربانی واجب ہے اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو تین روزہ ایام حج میں اور سات روزے بعد حج خواہ مکہ میں خواہ وطن لوٹ کر رکھناضرور ۔ قال تعالى : " فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَثَةِ أَيَّامٍ فِي الحَج وَ سَبْعَةِ إِذَا رَجَعْتُم - الآية " والله تعالى اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۳۰ شوال المکرم ۱۴۰۱ھ دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف