نکاح کے وقت لڑکا چال چلن میں لڑکی سے کمتر تھا تو نکاح ہوایا نہیں ؟
جناب اعلیٰ حضرت ! السلام علیکم میرے سوتیلے لڑکے ہیں، جائیداد کے پیچھے انہوں نے مجھے مار کر گھر سے نکال دیا۔ پہلے میں نرولی میں رہتی تھی، جب میرے لڑکے نے مجھے نکال دیا تو میں مراد آباد آگئی۔ میری ایک لڑکی تھی ۱۳ / سال کی، اس کو مجھ سے چھین لیا اور میری غیر موجودگی میں اور لڑکی کے والد کی بھی غیر موجودگی تھی، میری لڑکی کی شادی ایک بد چلن لڑکے کے ساتھ زبر دستی کر دی، میری لڑکی نے نکاح کا اذن نہیں دیا تھا۔ میرا سوتیلا لڑ کا ظالم تھا اس نے دھمکا کے میری لڑکی سے زبر دستی دستخط کروالیے۔ شادی کر کے اس نے رخصت کر دیا۔ میری لڑکی وہاں جانا نہیں چاہتی تھی، آج دس سال ہو گئے ، میری لڑکی جب سے میرے ہی پاس ہے ۔ اب سے چار سال پہلے سوتیلے بھائی نے پھر وہیں بھیج دیا، دو تین دن رہنے کے بعد پھر اس لڑکے کی ماں اس لڑکی کو میرے پاس پہنچا گئی۔ میرا چار پانچ سال برابر مقدمہ چلا اور پھر کچہری سے طلاق ہوگئی۔ ایک بار وہ لوگ گھر پہ چڑھ کے آگئے۔ پولیس نے ان لوگوں کو پکڑ لیا اور معلوم کیا جب لڑکی نے طلاق لے لی ہے تو تم لوگ کیوں آئے تھے ؟ اس پر اس لڑکے نے کہا مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس نے طلاق لے لی ہے، اب میں کبھی نہیں آؤں گا، میرا اس سے کوئی مطلب نہیں ۔ اب اس بات کو بھی چار سال ہو گئے اور وہاں سے آج تک کوئی نہیں آیا۔ کیا ایسی حالت میں طلاق ہو گئی ؟ جبکہ لڑکی کا نکاح بھی زبر دستی کیا تھا، ماں باپ کی غیر موجود گی تھی، یعنی ماں باپ سے چھین لیا تھا اور لڑکی نے اڈن بھی نہیں دیا تھا اور اب لڑکے نے کہ دیا کہ میری بیوی نہیں ہے، مجھے کوئی مطلب نہیں ہے۔ اب آپ یہ بتلایئے کہ لڑکی کی شادی میں اور کہیں کر سکتی ہوں یا نہیں ؟ اور نہیں کر سکتی تو آپ دعا کیجئے کہ وہ آزاد کر دے کیونکہ یہ جوان لڑکی ہے، کب تک لیے بیٹھی رہوں ؟ میرا بوڑھاپا ہے، میرے سر پہ اللہ تعالیٰ کے سواکسی کا سایہ نہیں ، میرے بعد میں اس کا کوئی نہیں ہے۔
الجواب: فی الواقع اگر وہ لڑکا وقت عقد چال چلن کے لحاظ سے لڑکی سے ایسا کمتر تھا کہ اس کے اولیاء کے لئے باعث عار ہو تو اصلا نکاح منعقد ہی نہ ہوا کہ بدچلن ، دختر نیکو کار کاکفو نہیں ۔ در مختار میں ہے: وتعتبر ديانة فى العرب والعجم اى تقوى فليس فاسق كفوا لصالحة ولا فاسقة بنت صالح على الظاهر . اور غیر کفو سے نکاح بے اجازت صریحہ ولی درست نہیں۔ لہذا لڑکی کو اختیار ہے کہ جس سے نکاح جائز ہو، کرلے۔ در مختار میں ہے: و يفتى فى غير الكفو بعدم جوازه اصلا وهو المختار للفتوى لفساد الزمان - الخ . واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ شب ۱۳۰ شوال المکرم ۱۴۰۱ھ