عدت میں نکاح کا ارادہ بھی حرام ہے اور عدت کے دوران نکاح کرنے اور گواہوں کی کمی کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسائل میں : (۱) یہ کہ امام مسجد نے ہندہ کا نکاح زید سے دوران عدت پڑھایا یعنی ۲۷ جون ۱۹۸۱ء ہندہ کو طلاق ہوئی اور ۸/ اگست ۱۹۸۱ء کو دوسرا نکاح پڑھایا گیا اور صرف ایک ماہ بارہ روز عدت کے گزرنے کے بعد عقد ہوا۔ کیا یہ نکاح درست ہوا ؟ (۲) یہ کہ مجمع نکاح میں صرف ایک شخص شاہد نکاح نے کو تیار ہوا۔ جب دوسرا گواہ کوئی نہیں تھا تو ام صاحب نے یہ کہ کر کہ ” جب کوئی دوسرا شاہد نہیں بن رہا ہے تو میں شاہد بنو نگا“ چنانچہ وہ خود ہی شاہد بھی بنے اور نکاح بھی پڑھایا۔ کیا ان کا یہ فعل درست ہوا؟ (۳) نکاح پڑھانے کے بعد جب امام مسجد میں آئے تو ان سے مصلیان مسجد نے دریافت کیا کہ تم نے ایسا نکاح جس کی مدت بھی پوری نہیں ہوئی تھی، کیوں پڑھایا؟ تو انہوں نے ازروئے قسم مسجد میں حاضرین مسجد کو مطمئن کر ایا کہ میں لاعلم تھا۔۔ دوسرے دن صبح کو امام صاحب نے ظاہر کیا کہ میں نے مسجد میں کوئی قسم نہیں کھائی تھی۔ ایسی صورت میں ان حاضرین جلسہ کے لئے جو نکاح میں شامل تھے، نیز امام صاحب کے لئے کیا حکم ہے؟ براہ کرم مفصل مطلع فرماکر ماجور ہوں۔ مکرر یہ کہ ایسے نکاح جو خلاف احکام شریعت پڑھائے جاتے ہیں ان کے لئے احکام شرع کیا ہیں ؟ اور اگر تجدید نکاح کی ضرورت ہو تو ان میں حلالہ یا عدت کی کوئی قید تو نہیں ہے ؟ اور اگر کوئی شخص تعمیل وتعمیل شرع نہیں کرتا ہے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
الجواب: (۱) نہیں ، کہ عدت ہنوز نہ گزری تھی۔ در مختار میں ہے: واقلها لحرة ستون يوما . اور عدت میں نکاح صراحۃۂ پیام نکاح بلکہ عزم نکاح بھی حرام ۔ قال تعالى : وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَبُ أَجَلَهُ الآية (۲) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) مجلس نکاح میں جو لوگ حاضر ہوتے ہیں سب شاہد ہوتے ہیں، امام کا وہ کہنا کہ ”جب کوئی الخ“ غفلت و جہالت پر مبنی ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جو دانستہ شریک ہوئے، گناہگار ستحق نار ہوئے۔ امام ہو یا کوئی اور ، توبہ کریں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۸ شوال المکرم ۱۴۰۱ھ دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف