بوسیدہ اور پرانے قرآنی نسخوں کو دفن کرنے یا دریا برد کرنے کا شرعی حکم
یہاں مسجد میں کہنہ و پارینہ و فرسوده و بوسیدہ کلام پاک اس قدر جمع ہو گئے ہیں کہ نہ تو وہ کسی طرح پڑھنے کے کام آتے ہیں اور اب ان کی نگرانی و حفاظت بھی سخت دشوار ہے۔ ایسی صورت میں براہ کرم مطلع فرمایا جاوے کہ احکام شرع کیا ہیں ؟ المستفتی: متولی مسجد محمد ثروت یار خاں، دڑو، ڈاکخانہ ڈرو ضلع نینی تال
الجواب: دریا میں ڈال دیں یا کسی پاک جگہ میں پاک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیں اور یہی بہتر ہے۔ در مختار میں ہے: وَلَا بَأْسَ بِأَنْ تُلْقَى فِي مَاءٍ جَارٍ كَمَا هِيَ أَوْ تُدْفَنُ وَهُوَ أَحْسَنُ كَمَا فِي الْأَنْبِيَاءِ. (1) رد المحتار میں ہے: وفى الذخيرة: المصحف اذا صار خلقا وتعذر القرأة منه لا يحرق بالنار اليه اشار محمد و به ناخذ ولا يكره دفنه و ينبغي ان يلف بخرفة طاهرة. (2) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۲۸ شوال المکرم ۱۴۰۱ھ صح الجواب۔ اور دریا میں ڈالیں توکسی بوری وغیرہ میں کر کے بھاری پتھر یا اینٹ باندھ کر تاکہ تہ میں بیٹھ جائے ورنہ اس کے اوراق منتشر ہو کر کنارے آلگیں گے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، محلہ سوداگران، بریلی شریف (1) الدر المختار ، كتاب الحظر والاباحة ، باب الاستبراء ، ج ۹، ص ٦٠٥ ، دار الكتب العلمية، بيروت (2) رد المحتار ، كتاب الحظر والاباحة ، باب الاستبراء، ج ۹، ص ٦٠٥ ، دار الكتب العلمية، بيروت