دو طلاقوں کے بعد رجعت کا طریقہ اور شرعی حکم
جامیں نے تجھے طلاق دی۔ ایسی صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں ؟ اب کس طرح اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ سکتا ہوں ؟ مطابق شرع شریف کے مطلع فرمایا جاوے۔ جب زید اپنے پڑوسی کے یہاں گیا تھا تو اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا کر آیا ؟ تب میں نے اس سے کہا جو کچھ مجھ کو کرنا تھا، کر آیا، مگر طلاق وغیرہ کا لفظ اس کے سامنے نہیں آیا تھا۔ خاکسار: زید ، موضع شیخ پور پرگنہ رچھا، تحصیل بهبری ضلع بریلی
الجواب: صورت مسئولہ میں اگر واقعہ یہی ہے جو تحریر ہوا تو دو طلاقیں رجعی واقع ہوگئیں، اگر پہلے ایک طلاق نہ دی ہو تو عدت میں رجعت کا اختیار ہے جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو نمازیوں کے سامنے کہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی، اسے اپنے نکاح میں لیا۔ اور اگر پہلے ایک طلاق دے دی ہے تور جعت نہیں ہو سکتی اور حلالہ کے بغیر زن و شوہر کو ساتھ رہنا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی یکم رذی قعدہ ۱۴۰۱ھ