مسجد کی جگہ کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرنا حرام ہے !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ: مسجد کی جگہ جو خارج مسجد ہے وضو کی نالی سے بالکل متصل اس جگہ کو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر مثلا تنور وغیرہ کھود کر شادی بیاہ کے لئے وہاں کھانا پکانا نیز کھانے پکانے میں مسجد ہی کا پانی استعمال کرنا اور اگر رات ہو تو مسجد کی ہی روشنی استعمال کرنا، یہ سب باتیں شریعت میں جائز ہیں یا نہیں ؟ اور ایسی صورت میں جبکہ نماز ہورہی ہے ، جماعت قائم ہو، کچھ لوگ نہ نماز کا خیال کر رہے ہیں نہ جماعت کا دھیان کر رہے ہیں، بلکہ اپنے اپنے کام میں مشغول ہیں جبکہ اگر وہ لوگ چاہیں نمبر وار نماز بھی پڑھ سکتے ہیں اور جماعت میں بھی شریک ہو سکتے ہیں مگر نہ تنہا ہی نماز پڑھتے ہیں اور نہ ہی جماعت میں شریک ہوتے ہیں۔ ایسے اشخاص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ نیز اپنے کام کی جو اجازت دے اس کے لئے کیا حکم ہے ؟ فقط، والسلام مسٹر عبدالرشید دھوپا، صدر بریلی شریف
اس جگہ کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرنا اگرچہ بہ اجرت ہو حرام ہے کہ وہ جگہ حدود مسجد میں ہے اور حرمت میں تابع مسجد ہے نہ تو عاریت دی جاسکے گی نہ بہ اجرت۔ حاشیہ شلبی میں فتح القدیر سے ہے: وقد ذكر المصنف فى علامة النون من كتاب التجنيس قم المسجد اذا اراد ان يبنى حوانيت في المسجد او فناء لا يجوز له ان يفصل لأنه اذا جعل المسجد مسكنا لتسقط حرمة المسجد واما الفناء فلانه تبع المسجد اهـ .() اور مسجد کا پانی مصلیوں کے لئے ہے، غیر مصلی کو اسے خرچ کرنا منع ہے ، یونہی بتی کا حکم ہے اور وہ لوگ جو تارک جماعت ہیں، اشد گناہگار ہیں اور امور مذکورہ کے مرتکب بھی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۷ / ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ