پیر جامع شرائط پر اعتراض اور نماز جنازہ میں خنثی کے لیے دعا و ضمائر کے احکام
(۳) نماز جنازہ میں نیت اور تکبیر تحریمہ کے بعد مرد و عورت، مخنث محتثہ سب کے لئے ایک ہی مخصوص معروفہ دعا ہے یا کچھ فرق بھی ہے؟ (۴) نماز جنازہ میں نیت اور تکبیر تحریمہ کے بعد لڑکا کے لئے ضمیر مذکر (ہو) اور لڑکی کے لئے ضمیر مؤنث (ہا) کے فرق کے ساتھ ایک دعا ہے تو کیا مخنث اور محتشہ بچوں کے لئے اسی ضمیر مذکر و مونث کے فرق کے ساتھ یہی دعا ہو گی ؟ (۵) وہ محنت جو مردوں سے مشابہ ہو، وہ مخنث مذکر ہیں اور وہ محنت جو عورتوں سے مشابہ ہو، وہ مخنثہ مؤنث میں شمار کیا جائے گا۔ علی ھذا القیاس ان کے بچوں کا شمار اسی طرح مذکر و مؤنث میں شمار ہوگا یا نہیں ؟ بینوا توجروا، بالوضاحت شرعیہ۔
الجواب: المستفتی: محمد خلیل اختر قادری، کلکتہ، زکریا اسٹریٹ (۱) پیر جامع شرائط پیری پر اعتراض کو علماء ارتداد فی الطریقہ فرماتے ہیں، اس کا مقتضی یہ ہے کہ بیعت قائم نہ رہنا چاہئے مگر صراحۃ میری نظر سے اس باب میں کچھ نہ گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳۲) عام طور سے جو دعا پڑھی جاتی ہے یعنی "اللهم الفلر الیناء میتنا الخ " اس میں کوئی فرق نہیں ۔ باقی دعاؤں میں ضمائر کا فرق ہو گا، مذکر کے لئے ”لہ “ اور مؤنث کے لئے ”کہا “ مثلا کہا جائے گا اور خنثی غیر مشکل کے لئے بہ صورت مذکر یا مونث ہونے کے وہی حکم ہے اور خنثی مشکل کے لئے مثلاً هذه الحتشی کہا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) بچے جیسے ہوں گے ویسے قرار پائیں گے ۔ مذکر تو مذکر اور مؤنث تو مؤنث۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۸/ ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم / قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی