تشہد میں رفع سبابہ کا طریقہ، کافرہ کی نماز جنازہ اور مودودی کی غائبانہ نماز جنازہ کے شرعی احکام
وصوله الى كلمة التوحيد يعقد الخنصر والبنصر ويحلق الوسطى والابهام ويشير بالمسجة رافعا لها عند النفى واصحالها عند الاثبات ثم يستمر على ذلك لانه يثبت العقد عند ذلك بلاخلاف ولم يوجد الامر بتغييره فالاصل بقاء الشيء على ما هو عليه واستصحابه الى آخر امره وماله اليه والله اعلم (حررہ ابوالحسنات عبدالحی لکھنوی) اس عربی عبارت کا ترجمہ اردو میں کیا ہے اور اس کے مطابق عمل کرنا شرعا کیسا ہے ؟ رفع سبابہ سے متعلق جمہور علمائے اہلسنت خصوصا اعلیٰ حضرت رضی الرحمن عنہ اور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نیز آقائے نعمت سر کار مفتی اعظم ہند دامت بر کاتہم القدسیہ کا عمل اس کے خلاف ہے، یعنی تشہد پر حلقہ بناکر "لا" پر انگلی اٹھائے اور الا “ پر گرادے اور حلقہ توڑ کر سب انگلیاں سیدھی کرلے۔ حضرت علامہ ملاعلی قاری علیہ الرحمہ کی عبارت تو درباره رفع سبابہ وہابی دیو بندی و غیر مقلدین کے مسلک کو ثابت کر رہی ہے۔ لہذا براہ کرم تفصیل وار مدلل بحوالہ کتب و عبارت مع ترجمہ کے تحریر فرمائیں۔ بینوا توجروا (۵) زید نے بکر کی کافرہ بیوی کا اس کے مرنے کے بعد یہ معلوم ہوتے ہوئے کہ بکر کی بیوی کافرہ ہے اور ہندو قوم میں سے چہار قوم سے تھی، وہ نہ ایمان لائی تھی نہ بکر سے نکاح ہی ہوا تھا، وہ کافر ہی رہی اور کفر ہی میں اس کا انتقال ہوا، ایسی حقیقت زید کو معلوم ہوتے ہوئے بھی اس نے نماز جنازہ پڑھادی اور گاؤں کا ملا ہونے کی حیثیت سے اسی کے ہاتھ سے ذبیحہ بھی ہوتا ہے۔ لہذازید کی ذبحیت شرعا جائز ہے یا نہیں ؟ (1) یہاں کے چند جماعت اسلامی کے افراد نے ابوالاعلی مودودی کے مرنے کی خبر ملنے پر یہاں کی جامع مسجد میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔ آیا اس طرح نماز جنازہ غائبانہ اور مسجد میں پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ ہر طرح مفصل و مدلل بحوالہ کتب و عبارت تحریر فرمائیں ۔ بینوا توجروا۔ المستني: عبد المصطفیٰ نوری معروف به غلام محی الدین رضوی خلیفه ماذون و مجاز سر کار مفتی اعظم ہند دامت بر کاتہم العالیہ
مسجد میں درخت لگانا جائز ہے مگر جبکہ مسجد کی زمین میں تری ہو جس کی وجہ سے عمارت کو اندیشہ ہو تو لگانانا جائز ہے ، یونہی سایہ کے لئے جبکہ تنگی نہ کریں اور صفوں کو قطع نہ کریں اور درخت لگانے والے کی ملکیت نہ ہوں گے بلکہ مسجد کے قرار پائیں گے تو اس کے پھل سے زید خواہ کسی کو طریق مذکور پر فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔ در مختار میں ہے: ويحرم فيه السوال (الى) وغرس الاشجار الالنفع كتقليل نزو تكون للمسجد. رد المحتار میں ہے: قال في الخلاصة غرس الاشجار في المسجد لا بأس به اذا كان فيه نفع للمسجد بان كان ذا نزوالا سطوانات لا تستقر بدونها و بدون هذا لا يجوز اه. وفى الهندية: "عن الغرائب ان كان لنفع الناس بظله ولا يضيق على الناس ولا يفرق الصفوف لا بأس به وان كان لنفع نفسه بورقه او ثمره او يفرق الصفوف او تقع به المشابهة بين البيعة والمسجد يكره. (۳) والله تعالى اعلم جائز ہے کہ وہ ریشم نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم اتنی مقدار پڑھنا مسنون ہے یعنی حضر میں اور بلا عذر اس سے کم پڑھنا موجب اساءت ہے اور عادت اس کی گناہ ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم در مختار کی طرف حلقہ بنانے کا حکم ہونے کی نسبت غلط ہے، اس میں صرف رفع سبابہ کا حکم بے تحلیق کے ہے۔ وهذا نصه: "لكن المعتمد ما صححه الشراح ولا سيما المتأخرون كالكمال (1) الدر المختار ، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة، ج ۲، ص ٤٣٤ ، دار الكتب العلمية، بيروت (2) الدر المختار، کتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة، ج ۲، ص ٤٣٥ ، دار الكتب العلمية، بيروت والحلبي والبهنسى والباقانى وشيخ الاسلام الجد وغيرهم انه يشير لفعله عليه الصلاة والسلام ونسبوه لمحمد والامام بل فى متن دررالبحار وشرحه غرر الافكار المفتى به عندنا انه يشير باسطا اصابعه كلها وفى الشرنبلانية عن البرهان الصحيح انه يشير بمسبحة وحدها يرفعها عند النفى و يضعها عند الاثبات واحترزنا بالصحيح عما قيل لا يشير لأنه خلاف الدراية والرواية وبقولنا بالمسبحة عما قيل يعقد عند الاشارة اهـ البتہ مختار یہی ہے کہ حلقہ بنا کر اشارہ کرے اور یہی ہمارے امامین صاحبین علیہما الرحمہ مروی۔ تبیین میں ہے: واختلفوا في كيفية وضع اليد اليمنى ذكر ابو يوسف في الامالى انه يعقد الخنصر ويحلق الوسطى والابهام ويشير بالسبابة فتح القدیر پھر شلبی علی التیبین میں ہے: المراد والله اعلم وضع الكف ثم قبض الاصابع بعد ذلك عند الاشارة وهو المروى عن محمد فى كيفية الاشارة قال يقبض خنصر والتي تليها ويحلق الوسطى والابهام ويقيم المسبحة وكذا عن ابي يوسف فى الامالى، اهـ . اور یہ خود ظاہر ہے کہ عقد اصابع اشارہ کے لئے ہے اور اشارہ کوئی شے مستمر نہیں کہ عقد اصابع اس کے ساتھ مستمر ہو بلکہ ایک غیر ممتد فعل ہے جس کے لئے عقد اصابع کیا جاتا ہے توجب اشارہ ختم ہو، حکم عقد کا ختم ہونا اس کے ساتھ بد یہی ہے۔ اسی لئے ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ تشہد میں شہادت سے پہلے اشارہ نہیں ۔ تبیین میں ہے: تکملة قال في الفتاوى لا اشارة فى الصلاة الا عند الشهادة في التشهد وهو حسن رفع الترد للامام العلامہ ابن عابدین میں شرح منیہ سے ہے: والمراد من العقد المذكور فى رواية مسلم العقد عند الاشارة لا فى جميع التشهد اور یہ امر خود حدیث سے ثابت ہے کہ حدیث میں وارد ہوا: (1) ان النبي ﷺ كان يشير باصبعه اذا دعا ولا يحركها رواه ابوداؤد والنسائى عن عبد الله بن زبیر رضی الله عنهما . (۳) یعنی نبی کریم ﷺ اپنی انگشت مقدس سے اشارہ کرتے جب کلمہ شہادت پڑھتے اور قبض اصابع مبارک بھی اشارہ ہی کے لئے ہوتا اور اس انداز سے پہلے سنت زکیہ یہ تھی کہ داہنا ہاتھ دینے زانو پر رکھتے، چنانچہ صحیح مسلم میں ہے: وضع كفه اليمنى على فخذه اليمنى وقبض اصابعه كلها واشار باصبعه التي تلى الابهام. (۴) یعنی حضور علیہ السلام دہنی کف اقدس داہنی ران پر رکھتے پھر سب انگلیاں سمیٹ کر انگوٹھے کے متصل انگلی سے اشارہ فرماتے اور کھلی بات ہے کہ ہتھیلی کار رکھنا قبض اصابع کے ساتھ صادق نہ آئے گا تو مراد یہ ہے کہ پہلے ہتھیلی رکھتے پھر اشارہ کے وقت قبض اصابع فرماتے۔ شرح منیہ و فتح القدير وشلبی علی التعیین وغیرہ میں ہے: ولا شك بان وضع الكف مع قبض الاصابع لا يتحقق حقيقةً والمراد وضع الكف ثم قبض الاصابع بعد ذلك عند الاشارة الخ۔ اور جب قبض اصابع ہنگام اشارہ تھا تو ظا ہر کہ قبض اصابع نہ اشارہ سے پہلے تھانہ اشارہ کے بعد۔ بالجملہ ہمارے ائمہ کرام کا مذہب یہی ہے کہ بعد اشارہ انگلیاں کھول دے اور ملاعلی قاری علیہ الرحمہ کا قول ہمارے ائمہ مذہب کے موافق نہیں بلکہ اکثر شافعیہ کا بھی یہ قول نہیں معلوم ہوتا۔ رہا بعض شافعیہ کا قول، مرقات میں بھی ملا علی قاری ابن حجر سے ناقل : قال ابن حجر و يسن ان يكون رفعها الى القبلة (الى) وان يستمر على الر الى آخر التشهد كما قاله بعض ائمتنا وان اعترضه جمع بان الاولى عند الفراغ اعادتها . (۴) واللہ تعالیٰ اعلم (۵) اس پر توبہ و تجدید ایمان لازم ہے۔ در مختار میں ہے: الدعاء بالمغفرة للكافر كفر . (۳) اور بے توبہ و تجدید ایمان اس کا ذبیجہ جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) غائبانہ نماز جنازہ ہمارے مذہب حنفی میں مشروع نہیں اور مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا بھی ناجائز، پھر مودودی اپنے معتقدات کفریہ کے سبب مسلمان ہی نہ تھا تو اس کی نماز جنازہ پڑھنا حرام بلکہ کفر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم تحسین رضا غفرلہ ۸/ ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ