ٹیپو سلطان، معرکہ کربلا کی معلومات اور دو گاؤں کی صدارت سے متعلق سوالات
صفحه ۲۶۳ ، پر، ٹیپو سلطان ابن حیدر علی کے لقب فرمانروائے میسور ان کے والد حیدر علی نائک تھے، ص ۲۶۴ پر : اسی لئے قریش نسبہ اور نائطہ کے ناطے سے ان کا انتساب نائطی کہا جانا غلط نہیں ہو سکتا، ٹیپو ایک مرد مسلمان تھا، اسی صفحہ میں: وہ نہایت راسخ الاعتقاد پابند شرع اور پاکباز حکمراں تھے ، مذ ہب شافعی تھے ، یہ کہاں تک صحیح ہے ؟ فوراً معلوم کرائیں ۔ (1) معرکہ کربلا میں حسین کے ساتھ پچاس ہزار آدمی مارے گئے، مختار ثقفی اقتدار میں ، ص ۳۴۱ یہ کہاں تک صحیح ہے ؟ اس کتاب کو پڑھنا یا جلانا یا دفن کرنا ہے ، مدلل جواب عنایت کریں۔ یہ کتاب عرب و دیار ہند کے مصنف مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی ندوی، اس کتاب کے ناشر محی الدین منیری۔ (۱۲) یہ مسئلہ آدم صاحب اور فقیر صاحب سہیل کی طرف سے درجہ سوال۔ زید ایک کوئی گاؤں کا صدر یار کن ہو چکا ہو، اسے دوسرے گاؤں کا صدر یار کن ہونے کی اجازت ہے یا نہیں ؟ جب یہاں رہا تو وہاں نہیں ، ایسے عالم میں کیا حکم ہے ؟ مدلل جواب عنایت کریں۔ المستفتی: سید رفیع مند گوڈل، خطیب امام جامع مسجد ، کمٹا، کرناٹک
الجواب: (۱،۲) جمعہ و عیدین کے لئے شہر یافتنائے شہر شرط ہے اور شہر وہ جگہ ہے جہاں متعد د گلی کوچے ، دائی بازار ہوں اور اور ضلع یا پرگنہ ہو جس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں اور وہاں حاکم رہتا ہو جو اپنی شوکت و حشمت سے ظالم سے مظلوم کا انصاف لے سکے یا وہ جگہ شہر سے باہر ہے مگر شہر سے متصل مصالح شہر کے لئے متعین ہے تو وہاں جمعہ و عیدین صحیح ہوں گے۔ دیہات اور جنگلات میں جمعہ و عیدین صحیح نہیں ۔ کنز و تبیین میں ہے: (شرط ادائها المصر) اى شرط جواز اداء الجمعة المصر حتى لا يجوز اداءها في المفازة ولا فى القرى لقول على رضى الله عنه لا جمعة ولا تشريق ولاصلوة فطر ولا اضحى الا فى مصر جامع. انہی میں ہے: (وهو) اى المصر (كل) موضع له امير و قاض ينفذ الاحكام ويقيم الحدود) وقال ابو حنيفة رحمه الله المصر كل بلدة فيها سكك واسواق ولها رساتيق و وال ينصف المظلوم من ظالمه وعالم يرجع اليه فى الحوادث وهو الاصح .. ہدایہ میں ہے: (1) والمصر الجامع كل موضع له امير وقاض ينفذ الاحكام ويقيم الحدود. اسی میں ہے: لا تصح الجمعة الا فى مصر جامع او فى مصلى المصر ولا تجوز في القرى لقوله عليه السلام لا جمعة الخ . کنز و تبیین میں ہے: (تجب صلاة العيدين على من تجب عليه الجمعة بشرائطها) اى بشرائط الجمعة (سوى الخطبة).(۴) در مختار میں ہے: صلاة العيد في القرى تكره تحريما لأنه اشتغال بما لا يصح لان المصر شرط الصحة. (۵) اور یہ شرط اخیر بنیادی شرط ہے، اسی لئے متون نے اس پر اکتفا کیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) كنز الدقائق، كتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة، ج ۱، ص ٥٢٣ ، دار الكتب العلمية، بيروت (2) الهداية، كتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة ، ص ١٦٨ ، مجلس بركات (3) الهداية ، كتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة ، ص ١٦٨ ، مجلس بركات (4) تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، کتاب الصلاة، باب صلاة العيدين، ج ۱، ص ٥٣٨ ، دار الكتب العلمية، بيروت (5) الدر المختار، کتاب الصلاة، باب العیدین، ج ۳، ص ٤٦ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) عید گاہ اگر وقفی ہے تو اس پر بلڈنگ بناناناجائز ہے۔ علماء فرماتے ہیں: لا يجوز تغيير الوقف عن هيئته . (0) تكملة اور اسے حتی الوسع نماز سے آباد رکھنا ضرور اور اگر یہ وقفی نہیں ہے تو جس کی ملک ہے وہ بلڈنگ بنا سکتا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اگر مسجد کے کام کی نہیں نہ آئندہ اسکی ضرورت ہے تو واجبی قیمت پر ایسے کے ہاتھ جو اسے عزت کی جگہ پر لگائے، بیچ سکتے ہیں اور اگر مسجد کے فی الحال یا آئندہ کام آنے کی ہے تو نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) ظاہر ہے کہ وہ وہابیہ دیابنہ کے عقائد کفریہ کا معتقد ہے اور کبرائے وہابیہ کو اپنا مقتد او پیشوا جانتا ہے تو انہی کی طرح کا فر بے دین ہے اور انہی کے زمرہ میں محشور ہو گا جبکہ اسی بے دینی پر مرجائے۔ قال تعالى : (۲)،، يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ أُنَاسِ بِاِمَامِهِمْ - الآية ( واللہ تعالیٰ اعلم (1) بشرط دین و امانت داری و اہلکاری ہو سکتا ہے اور بے دین و خائن و فاجر وعاجز کو متولی بنانا حرام۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) لوگ اپنے انساب پر مامون و معتمد ہیں لہذا جو شخص اپنا جو نسب بتائے اور اس کے خلاف پر دلیل شرعی قائم نہ ہو تو اسے تسلیم کرنا لازم ہے اور بد گمانی حرام ہے لہذا جبکہ ان کے کذب پر دلیل شرعی نہیں تو انہیں سید مانا ضرور ہے۔ ہاں، انہیں جائز نہیں کہ غیر سید کو حقیر جانیں اور نشر کرنا اگر محض فخر و شہرت کے لئے ہو تونا جائز اور اس کی کوئی غرض شرعی ہو تو مضایقہ نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم () یہ ندوی ہیں اور ندوی ان دیو بندیوں کو جنہوں نے اللہ ورسول کی توہین لکھی چھاپی اور ضروریات دین کا انکار کیا، کافر نہیں جانتے تو خود کافر ہیں اور کافر عالم دین نہیں اور اسے عالم دین ماننا اس کے کفری عقائد پر مطلع ہوتے ہوئے کفر ہے۔ در مختار میں ہے: تبجيل الكافر كفر . واللہ تعالیٰ اعلم (۹) استغفر اللہ العظیم ولا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم۔ یہ بکواس سخت اہانت سر کار رسالت آب صلی اللہ علیہ وسلم ہے بلکہ خود اپنے ایمان کی نفی ہے کہ قرآن پر ایمان بے فہم معانی نہیں ہو سکتا۔ لہذا اجمالی علم معانی قرآن کا ہر مومن کے لئے ضرور کہ ایمان تصدیق سے عبارت ہے اور تصدیق بے علم کے نامتصور تو جس نے یہ بکا کہ آپ قرآن مجید کے حقیقی معنی نہیں جانتے تھے “ اس نے حضور علیہ السلام سے ایمان کی نفی کی، اس سے بڑھ کر اور کچھ تو ہین نہ ہوگی ، تو یہ بکنے والا خود کافر ہے اور اپنے لکھے کا خود مصداق ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (10) اس کا مجھے علم نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۱) یہ غلط ہے، حضرت حسین ولی اللہ کے ساتھ ۷۲ / یا۸۲ / نفوس تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۲) اہل صدارت ہے تو ہو سکتا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۳ ذیقعده ۱۴۰۱ھ دار الافتاء منظر اسلام، محلہ سوداگران ، بریلی شریف