تبلیغی جماعت کا مسجد میں ٹھہرانا، ان کی تقریر سننا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم
سوال
(۱) تبلیغی جماعت کا مسجد میں ٹھہرانا، ان کی تقریر سننا کیسا ہے ؟ (۲) تبلیغی جماعت کے نام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ اگر مصلیان اور محلہ والے تبلیغی جماعت کو ٹھہرنے سے اور تقریر کرنے سے نہ روکیں تو اُن پر کوئی گناہ تو نہیں ہے ؟ تفصیل سے لکھئے، کرم فرمائیے۔ المستفتی: حافظ جمیل محمد ، فایل امام عید گاہ پائی نمبر 4، جھانسی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: (۱، ۲) تبلیغی حقیقة دیوبندی ہیں اور دیوبندی ضروریات دین کے منکر اور شاتم خد اور سول ہیں اور وہ علمائے حرمین شریفین کے فتویٰ سے ایسے کا فربے دین ہیں کہ جو انہیں قطعی کافر ومستحق عذاب نہ جانے وہ بھی کافر ہے۔ لہذا تبلیغی کو مسجد میں آنے دینا اور اس کا وعظ سننا حرام و گناہ اور اسے امام بنانا بھی، اور اس کی اقتدا میں نماز باطل محض ۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۱ · صفحہ ۱۷۹
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
نافرمان بیٹے کے ساتھ سلوک اور اسے وراثت سے محروم کرنے کا حکم
باب: تکملہ
وہابی نکاح خواں کے نکاح پڑھانے اور نکاح کی صحت کا مسئلہ
باب: تکملہ
نافرمان باپ پر ظلم کرنے والے بیٹے کا حکم
باب: تکملہ
مختلف علماء کو بلانے اور مسلک اعلیٰ حضرت کے حوالے سے ان پر اعتراضات کا مسئلہ
باب: تکملہ
شریعت میں غاصب کی تعریف، فسق و فجور کا مطلب اور غاصب کی تصدیق کرنے والے کا حکم
باب: تکملہ