وہابی نکاح خواں کے نکاح پڑھانے اور نکاح کی صحت کا مسئلہ
(۸) میری شادی ہو کر ایک سال تین مہینے گزر چکے ہیں اور میرا ایک فرزند بھی ہے ، انجانے میں میرا رشتہ ایک دہانی کے گھر میں ہوا ہے جس کا مجھے بہت افسوس ہے، شادی ہو کر ایک مہینے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ یہ لوگ وہابی ہیں۔ نکاح پڑھانے والا بھی وہابی ہی تھا اور اب میری بیوی سنی عقیدے کی ہو چکی ہے لیکن گاؤں والے کچھ جاہل لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا نکاح ہی ہوا نہیں۔ اس لئے میں بہت فکر میں ہوں کہ کہیں یہ لوگ دوبارہ نکاح پڑھا نہ دیں۔ اب اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال اور شریعت کیا کہتی ہے ؟ جلد از جلد مندرجہ ذیل کے پتے پر جواب لکھ کر بھیجیں۔ المستفتی: محمد حنیف بابو صاحب مٹھائی گر، ہوٹل بلواسٹار ، مین روڈ ، نانڈ گڑھ نمبر ۱۷
تكملة (1) جائز ہے۔ فقراء و مساکین پر تصدق کی نذر مانے تو یہ نذر شرعی ہے ،اس کا کھانا فقیر کو حلال ہے، غنی کو نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جو اللہ کی ذات وصفات کا علم اوروں سے زیادہ رکھے اور شرع پر عامل ہو، تقویٰ سے بہ نسبت دوسروں کے زیادہ آراستہ ہو اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ایسا شاغل ہو کہ اسے دیکھنے سے خدا یاد آئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اگر پاؤں کی انگلیوں کے پیٹ زمین سے لگنے سے مانع نہیں تو نماز ہو جائے گی ، مگر جوتے پہن کر نماز نہ پڑھیں ، کہ خواہی نخواہی انگشت نمائی ہو۔ (۴) فتنہ کے سدباب کے لئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) ابولہب کے لئے اس قدر حدیث میں آیا کہ دو شنبہ کے دن عذاب میں کمی کر دی جاتی ہے، کہ اس نے حضور کی ولادت کریمہ کی خوشی میں اپنی لونڈی آزاد کی تھی۔ واللہ تعالی اعلم (1) میری نظر سے نہ گزری ۔ واللہ تعالی اعلم (۷) عوام کی جہالت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) اگر آپ کی بیوی عقائد کفریہ رکھتی تھی یا عقائد کفر رکھنے والے وہابیہ کے کفر پر مطلع ہوکر انہیں مسلمان جانتی تھی توفی الواقع آپ کا نکاح اس سے درست نہ ہوا، نئے سرے سے نکاح کرناضرور ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله شب ۱۲؍ رجب المرجب ۱۴۰۲ھ